منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سلمان شہبازکو گرفتار کرنے کا حکم

datetime 27  اگست‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)احتساب عدالت نے شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت جبکہ ملزم علی احمد اورسید محمد طاہر نقوی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ڈی جی نیب کو ملزموں کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر کے نصرت شہباز، رابعہ عمران اور جویریہ علی کو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کر دئیے ۔ احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ریفرنس پر سماعت کی ۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا نصرت شہباز کا کیا معاملہ ہے، گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا تھا ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا نصرت شہباز کے وارنٹ جاری نہیں ہوئے، نصرت شہباز کو والدین سے کوئی جائیداد نہیں ملی، شہباز شریف کے وزیراعلی بننے کے بعد اثاثوں میں اضافہ ہوا، نصرت شہباز کے اکائونٹس میں ٹرانزیکشنز ہوئیں۔تفتیشی افسر نے کہا کہ نصرت شہباز پاکستان میں موجود نہیں ۔ احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا جویریہ علی کو شامل تفتیش کیا گیا، ملزمہ پر کیا الزام ہے؟ ۔ نیب کی جانب سے بتایا گیا کہ جویریہ علی کو سوالات بھیجے گئے تھے مگر ملزمہ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ملزم علی احمد کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا، علی احمد کو مختلف جگہوں پر تلاش کیا گیا مگر ملزم ٹریس نہیں ہوا، ملزم سید محمد طاہر نقوی گرفتاری سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہے، نصرت اور رابعہ عمران کے بارے میں اطلاع ہے کہ دونوں بھی بیرون ملک فرار ہیں۔

نصرت شہباز ، رابعہ عمران اور جویریہ علی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے۔دوران سماعت قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ فاضل جج صاحب میں نے اپنے دور میں کروڑوں روپے بچائے، قومی خزانے کو آج تک نقصان نہیں پہنچایا، اربوں روپے کی سرمایہ کاری پاکستان لے کر آیا ہوں، نیب نے میرے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے، اللہ اور اس کے رسول کی قسم کھا کر کہتا ہوں ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ،ایک دھیلے کی ٹیلی گرافک ٹرانسفر میرے اکائونٹ میں نہیں ہے۔

اللہ کے فضل سے نیب والے 66 دن حراست میں رکھ کر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے، 1997 سے عوام کی خدمت کی اس میں ایک دھیلے کا ٹی اے ڈی اے نہیں لیا، میں نے عوام کی خدمت میں اپنی تنخواہ بھی عطیہ کی ۔ جج جواد الحسن نے کہا کہ قانون میں ملزم کے بہت سے حقوق ہوتے ہیں، آپ کا پوراموقف سنا جائے گا، اگر استغاثہ میں ثبوت نہ ہوئے تو آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں کی جائے گی۔قانون کے مطابق الزامات کا بغور جائزہ لیں گے، الزامات جھوٹے ہوئے تو آپ باعزت بری ہوں گے اگر الزام درست ثابت ہوا تو قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ شہباز شریف نے کہا مجھے اللہ اور آپ کی عدالت پریقین ہے۔ شہباز شریف کی کمرہ عدالت سے جانے کی اجازت پر فاضل جج نے کہا آپ کی حاضری مکمل ہوچکی ہے آپ جاسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…