جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پوری دنیاسمیت لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا ، سخت سکیورٹی کے با وجود وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے، بھارت کیخلاف شدید نعرہ بازی

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

سرینگر (آن لائن)لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر کے کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا،سخت سکیورٹی کے باوجود وادی بھر میں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور بھارت اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی مادر وطن پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔حریت قیادت سید علی گیلانی ، آل پارٹیز حریت کانفرنس ، میر واعظ عمر فاروق نے اپنے الگ الگ بیان میں کہا ہے کہ س دن کو غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دیا جارہا ہے ہے۔ حریت رہنماوں اور دیگر تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے کے لئے پوری دنیا میں بھارتی سفارت خانوں کے ذریعہ بھارت مخالف مظاہرے کئے ۔ اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے بھارت پر کشمیر میں مظالم کا سلسلہ روکنے اور مسلہ کشمیر کے حل کے لئے اپناکردا ر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حریت رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کا ذکر کرتے ہوئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جو قوم غضب کا سہارا لیتی ہے اور دوسروں کو ان کی آزادی سے محروم کرتی ہے ، وہ اپنی آزادی کا جشن منانے کا ہر حق کھو دیتی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کو اپنا یوم آزادی منانے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے جموں و کشمیر کے عوام اور زمین کو فوجی طاقت کے ذریعے گذشتہ 73 سالوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کے زیر قبضہ علاقے اور اس کے انتہائی سفاکانہ نفاذ کے حوالے سے عضلاتی اقدام جموں و کشمیر کی المناک داستان کا انتہائی سخت باب تھا۔ انتہائی سخت سکیورٹی ہونے کے باوجود لوگوں نے گلی ،محلوں اور سڑکوں پر نکل کر بھارت کے خلاف نعرہ بازی کی اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…