پوری دنیاسمیت لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا ، سخت سکیورٹی کے با وجود وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے، بھارت کیخلاف شدید نعرہ بازی

  ہفتہ‬‮ 15 اگست‬‮ 2020  |  14:24

سرینگر (آن لائن)لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر کے کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا،سخت سکیورٹی کے باوجود وادی بھر میں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست احتجاجی مظاہرے کئے اور بھارت اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی مادر وطن پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کو مسترد کرتے


ہیں۔حریت قیادت سید علی گیلانی ، آل پارٹیز حریت کانفرنس ، میر واعظ عمر فاروق نے اپنے الگ الگ بیان میں کہا ہے کہ س دن کو غیرقانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالعدم قرار دیا جارہا ہے ہے۔ حریت رہنماوں اور دیگر تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے کے لئے پوری دنیا میں بھارتی سفارت خانوں کے ذریعہ بھارت مخالف مظاہرے کئے ۔ اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے بھارت پر کشمیر میں مظالم کا سلسلہ روکنے اور مسلہ کشمیر کے حل کے لئے اپناکردا ر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حریت رہنما سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کا ذکر کرتے ہوئے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جو قوم غضب کا سہارا لیتی ہے اور دوسروں کو ان کی آزادی سے محروم کرتی ہے ، وہ اپنی آزادی کا جشن منانے کا ہر حق کھو دیتی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کو اپنا یوم آزادی منانے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے جموں و کشمیر کے عوام اور زمین کو فوجی طاقت کے ذریعے گذشتہ 73 سالوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کے زیر قبضہ علاقے اور اس کے انتہائی سفاکانہ نفاذ کے حوالے سے عضلاتی اقدام جموں و کشمیر کی المناک داستان کا انتہائی سخت باب تھا۔ انتہائی سخت سکیورٹی ہونے کے باوجود لوگوں نے گلی ،محلوں اور سڑکوں پر نکل کر بھارت کے خلاف نعرہ بازی کی اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎