منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

یو اے ای اسرائیل معاہدہ مسلمانوں کو مزید تقسیم کردیگا مہاتیر محمد کی معاہدے پر شدید تنقید

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے طے پانے والے معاہدے پر متنبہ کیاہے کہ یہ امن کے لئے ایک قدم پیچھے ہے اور مسلم دنیا کو ”متحارب دھڑوں” میں تقسیم کردے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ اسرائیل کے اس موقف کو تقویت بخشے گا کہ فلسطین کا تعلق اسرائیل سے ہے۔ دوسری جانب ترکی نے اسرائیل سے امن معاہدہ طے کرنے پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ اس کے اپنے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای سے تعلقات معطل کرنے کے علاوہ ابوظبی میں متعین ترک سفیر کو واپس بلانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ترک وزارتِ خارجہ نے الگ سے ایک ایک بیان میں کہا کہ تاریخ یو اے ای کو اسرائیل سے ڈیل طے کرنے اورمنافقانہ کردار پر کبھی معاف کرے گی۔ترک صدر نے معاہدے کے ردعمل میں مزید کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف یہ اقدام ہضم نہیں کیا جاسکتا۔فلسطین اگر یو اے ای میں اپنے سفارت خانہ کو بند کرتا ہے یا اپنے سفیر کو واپس بلا لیتا ہے تو ہم بھی یہی کریں گے۔انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے وزیرخارجہ کو اس ضمن میں احکامات دے دیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے وزیرخارجہ سے کہا ہے کہ ہم بھی ابوظبی کی قیادت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کررہے ہیں یا پھر اپنے سفیر کو واپس بلا رہے ہیں۔ترک وزارت خارجہ نے قبل ازیں بیان میں کہا کہ فلسطینیوں نے درست طور پر اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔اس نے کہاکہ تاریخ اور خطے کے لوگوں کا ضمیر اس منافقانہ کردار کو کبھی فراموش اور معاف نہیں کرے گا۔انتہائی تشویش کی وجہ تو یہ ہے کہ یو اے ای نے 2002 کے عرب امن اقدام کے ساتھ آگے بڑھنے کے بجائے یک طرفہ اقدام کیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…