حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، ہر بندہ خود مارشل لا بنا بیٹھا ہے، حکومت کی رٹ کہاں پر ہے؟سپریم کورٹ شدید برہم

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  18:39

کراچی (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کراچی میں ہر قسم کے بل بورڈز اور سائن بورڈز ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے شہر کی صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں ہے، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر چلے جاتے ہیں، شہر کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا، مجھے تو لگتا ہے کراچی کے لوگوں کے ساتھ دشمنی ہے، اس شہر سے سندھ حکومتاور لوکل باڈی (مقامی نمائندوں)کی بھی دشمنی ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے شہر قائد


میں بل بورڈز سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کی جہاں کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سمیت مختلف مسائل اور شہر کی صورتحال کے دیگر معاملات بھی زیر غور آئے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔دوران سماعت سیکریٹری بلدیات روشن شیخ، ایم ڈی واٹر بورڈ، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن اور محکمہ بلدیات کے دیگر افسران بھی عدالت میں پیش ہوئے۔اس کے علاوہ کراچی کے میئر وسیم اختر اور چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ بھی عدالت پہنچے جبکہ شہر قائد میں لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر عدالت نے ایم ڈی کے الیکٹرک کو بھی فوری طلب کرلیا۔سماعت کے آغاز میں ہی شہر قائد میں بل بورڈ گرنے کا معاملہ سامنے آیا، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں ہونے والی بارش کے دوران ایک بل بورڈ موٹر سائیکل سواروں پر آگرا تھا جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران کمشنر کراچی کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ اس معاملے پر ہم نے مقدمہ درج کیا ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ بل بورڈ کس نے لگایا تھا، جس پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی شیراز نذیر نے بتایا کہ دو ملزمان اشرف موتی والااور دیگر کے خلاف مقدمہ درج لیا ہے اور انہیں تلاش کر رہے ہیں۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن بولے کہ جو مقدمہ درج ہوا ہے، اس کی 5 سال تک تحقیقات چلتی رہیں گی۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وہ سمندر کے نیچے چلے گئے ہیں، عدالت میں فضول باتیں مت کرو جا اور ان کو آدھے گھنٹے میں ڈھونڈ کر لا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پورے شہر میں بل بورڈ لگے ہوئے ہیں، ہر جگہ آپ کو بل بورڈ نظر آئیں گے،اگر یہ بل بورڈ گر گئے تو بہت نقصان ہوگا، جس پر ڈی ایم سی کے وکیل نے کہا کہ لوگ اپنے گھروں پر بل بورڈ لگا دیتے ہیں۔جس پر بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ 5 برسوں کی تحقیقات کراتے ہیں کہ کس نے بل بورڈز لگائے۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمارتوں پر اتنے بل بورڈز لگے ہوئے ہیں کہ کھڑکیاں بند ہوگئی ہیں جبکہ مکانوں پر اشتہارات اور بل بورڈ کی وجہ سے ہوا ہی بند ہوگئی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تو قانون کی خلاف ورزی ہے، حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے، ہر بندہ خود مارشل لا بنا بیٹھا ہے، سندھ حکومت کی رٹ کہاں پر ہے، وزیراعلی سندھ ہیلی کاپٹر پر جاتے ہیں، گھوم کر واپس آجاتے ہیں، لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں صفائی کا ذمہ دار کون ہے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کوئی ہے جو اس شہر کو صاف کرے، آپ کا آنا جانا اس جگہ سےہے جہاں شہر صاف ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بچے گٹر کے پانی میں روز ڈوبتے ہیں، میری گاڑی کا پہیہ بھی گٹر میں چلا گیا تھا، یہ بھی آپ لوگوں کا شہر ہے، مجھے تو لگتا ہے کراچی کے لوگوں کے ساتھ دشمنی ہے، اس شہر سے سندھ حکومت اور لوکل باڈی (مقامی نمائندوں) کی بھی دشمنی ہے۔انہوں نے کہا کہ میئر کراچی کہتے ہیں میرے پاس اختیارات نہیں، اگر اختیارات نہیں تو گھر جا کیوں میئر بنے بیٹھے ہو، ساتھ ہی چیف جسٹس نے میئرکراچی سے پوچھا کہ آپ کب جائیں گے، جس پر وسیم اختر نے کہا کہ 28 اگست کو مدت ختم ہوگی، اس پر چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دیے کہ جا جان چھٹے شہر کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی کے میئرز نے شہر کو تباہ کردیا ہے، کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں ہے، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر کے جاتے ہیں، شہر کے لیے کوئی کچھ نہیں کرتا۔بل بورڈز سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے اداروں کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمیکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سب سے زیادہ بل بورڈز رہائشی عمارتوں پر لگے ہیں، آپ لوگوں نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، کوئی کراچی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ مافیا حکومتوں کو پال رہی ہیں، حکومتیں اس مافیا کا کیا بگاڑیں گی، اگر کچھ کیا تو حکومتوں کا دانا پانی بند ہوجائے گا۔ساتھ ہی انہوں نے کراچی میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی پر بھی برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک والے بھی یہاں مزے کر رہے ہیں،بجلی والوں نے باہر کا قرضہ کراچی سے نکالا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ شہر میں گھنٹوں گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، کے الیکڑک کے سربراہ کہاں ہیں؟ شہر میں بجلی کا ترسیلی نظام خراب ہوچکا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کے الیکٹرک والے خود کو ایسے پیش کرتے ہیں جیسے عوام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں جاری لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار کون ہے، سی ای او کے الیکٹرک کےخلاف مقدمہ بننا چاہیے، کے الیکٹرک کی انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ہوگا۔دوران سماعت عدالت میں کمشنر کراچی نے بتایا کہ لوگوں نے پرائیویٹ (نجی) عمارتوں پر سائن بورڈز لگا رکھے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عمارت کے چاروں طرف بل بورڈز اور سائن بورڈ لگا دیے ہیں۔عدالتی ریمارکس پر کمشنر نے کہا کہ گزشتہ 4 برسوں میں ہم نے سیکڑوں بل بورڈز اور سائن بورڈ ہٹائے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایف ٹی سی پر ساریکھٹارا عمارتوں پر بل بورڈز لگے ہوئے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے مذکورہ درخواست پر سماعت کے بعد کراچی میں ہر قسم کے بل بورڈز اتارنے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ تمام پرائیویٹ پراپرٹریز سے بھی بل بورڈز کو ہٹایا جائے۔عدالت نے پورے شہر میں بل بورڈ اور سائن بورڈ ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کمشنر کراچی کو مکمل اختیار دے دیا۔سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ آپ بااختیار ہیں، کارروائی کرکے تمام سائن بورڈ ہٹادیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام سرکاری مقامات سے بل بورڈز اور سائن بورڈ ہٹا دیں، نجی جائیداد پر نصب خطرناک سائن بورڈ بھی فوری ہٹا دیں۔علاوہ ازیں درخواست گزار کے وکیل عبدالوہاب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج عدالت نے ایک بار پھر ہرقسم کے بل بورڈز اور ہورڈنگز ہٹانے کا حکم دے دیا ہے، عدالت نے ضلع جنوبی کے چیئرمین سمیت متعلقہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے۔ان کے بقول پرائیوٹ پراپرٹی پر پہلے بل بورڈز لگانے پر نرمی تھی اب اسے بھی ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎