پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

شہباز شریف کے بیٹے اور داماد کی حوالگی،حکومت نےبرطانوی حکام کو خط لکھ دیا،معاہدہ نہ ہونے کے باوجود خط کس کی خواہش پر کس نے بھیجا؟پتہ چل گیا

datetime 4  اگست‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر وقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے بیٹے اور داماد کی حوالگی کے لیے برطانوی حکام کو خط لکھ دیا۔میڈیا رپورٹ میں اس معاملے سے منسلک حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کے چھوٹے بیٹے سلمان شہباز اور داماد علی عمران کی حوالگی کے لیے برطانوی حکام کو خط لکھا گیا۔

سلمان شہباز نیب کوآمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مطلوب ہیں جبکہ علی عمران پنجاب میں صاف پانی اسکیم کیس میں مطلوب ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی خواہش پر وزارت خارجہ کی جانب سے خط بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے وہ صرف بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت ہی مطلوبہ ملزمان کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔اس ضمن میں کابینہ کے ایک رکن جو اپنا نام نہیں ظاہر کرنا چاہتے تھے نے بتایا کہ نیب خود کسی بین الاقوامی اتھارٹی کو اس طرح کا خط بھیج سکتا تھا لیکن اس کیس میں وزارت خارجہ نے خط بھیجا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے میوچوئل لیگل اسسٹنس قانون منظور کروایا جارہا ہے جس کے تحت وزارت داخلہ کو اس قسم کے معاملات دیکھنے اور براہِ راست بین الاقوامی اداروں کو خط لکھنے کا اختیار ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے انٹرپول کے ذریعے بھی سلمان شہباز کو واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے، ایک بیان میں نیب ترجمان کے حوالے سے کہا گیا کہ بیورو قائد حزب اختلاف کے بیٹے کو واپس لانے کے لیے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور انٹرپول سے رابطہ کرے گا۔خیال رہے کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے اور احتساب عدالت کی جانب سے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔علاوہ ازیں نیب نے قانون کے مطابق سلمان شہباز کی برطانیہ بدری کے لیے این سی اے سے تمام تر ممکنہ معاونت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…