جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کے تحت بجلی پیدا کرنیوالی کمپنیوں سے متعلق الزامات کو رد کر دیا، حقائق کو مسخ کیا گیا،پاکستانی عوام کے سامنے حقائق لائے جائیں ، عمر ایوب کو خط

datetime 6  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن) چینی حکومت نے سی پیک منصوبے کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے متعلق ا لزامات کو رد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے میں بڑا تعاون پاکستان کے ساتھ جاری ہے۔

پاکستان میں چین کے سفیر کی جانب سے وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان کو لکھے جانے والے ایک خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویسے تو سی پیک کے تحت حالیہ دنوں میں بہت زیادہ پیش رفت دیکھنے کو آئی ہے مگر سی پیک پاور پروڈیوسرزکے حوالے سے الزامات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کیونکہ سی پیک کے تحت بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں پاکستانی صارفین کو صاف ،قابل اعتماد اور سستی بجلی فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہیں اور کورونا وباء کے دوران ایک تہائی پاور لوڈ کی بھی ضمانت دی ہے تاہم بہت سے ماہرین اور میڈیا سے متعلق افراد جن کے پاس درست معلومات نہیں ہیں نے سی پیک پاور پروڈیوسر سے متعلق حقائق کو مسخ کیا اور عوام میں سی پیک سے متعلق کنفیوژن پیدا کی اور اسی بناء پر پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی ہوننگ شنڈائونگ رعائی انرجی لمیٹیڈ اور چائنہ پاور حب لمٹیڈ کمپنی نے اپنی الگ سے رپورٹ سے مسودے تیار کئے ہیں تا کہ پاکستانی عوام کے سامنے حقائق سامنے رکھے جاسکیں اور انوائسٹر و آپریٹرز بارے بتایا جا سکے ۔یہ حقیقت ہے کہ سی پیک کے تحت پاور پروڈیوسر کمپنی نے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے اور پاور کے شعبے کا گردشی قرضہ کم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے ۔

خط کے ساتھ دونوں کمپنیوں کی رپورٹ بھی منسلک کی گئیں ہیں جس میں کہاگیا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت سی پیک دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعاون و ترقی کا منصوبہ ہے ۔مختلف کمیٹیز کی رپورٹ پر بھی چینی کمپنیوں نے شدید تحفظات اور احتجاج کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ مجاز حکام اور کمیٹی کے سامنے تمام تر حقیقی صورت حال رکھنے کو تیار ہیں کیونکہ پاور سیکٹر میں چینی کمپنیوں کا تمام تر کام انتہائی شفاف انداز میں کیا جارہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…