جہاز تباہ ہونے سے پہلے کیا ہوا؟خوفناک حادثے میں معجزانہ بچ جانے والے ظفر مسعود نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

  ہفتہ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2020  |  10:36

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی آئی اے کے تباہ ہونے والے بد قسمت طیارے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والوں میں بینک آف پنجاب کے سربراہ ظفرمسعود بھی شامل ہیں، روزنامہ جنگ کے مطابق ظفر مسعود نے بتایا کہ طیارہ کریش ہوا تو میں سیٹ سمیت باہر جاگرا، مجھے کوئی ہوش نہیں رہا ، کچھ لوگوں نے مجھے اٹھایا تو اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں، نیم بے ہوشی کی حالت میں مجھے لوگوں کی آوازیں سنائی دیں کہ یہ زندہ ہے زندہ ہے، اس کےبعد مجھے سی ایم ایچ ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں میں دوبارہ بے ہوش


ہوگیا ۔ان کے ایک عزیز نے بتایا ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ جہاز کے لینڈنگ سے قبل اچانک دھماکے کی آواز آئی اور جہاز گر پڑا ،وہ بے ہوش ہوگئے، آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال میں تھے۔ ان کے ہاتھ میں فریکچر ہوا ہے،ظفر مسعود نے ہوش میں آتے ہی ڈاکٹر سے فون لے کر اپنی والدہ سے بات کی، ان کے بھائی بھی گلستان جوہر کے ہسپتال میں ان کے ساتھ ہیں، ان کے جسم پر جلنے کا کوئی زخم نہیں، صرف خراشیں آئیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎