بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس کی ویکسین کیلئے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کے قریب ، پاکستانی سائنسدانوں نے بڑی خوشخبری سنادی ‎

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے مہلک کورونا وائرس نے اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سائنسدان اس وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں چین، برطانیہ، امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک سب سے زیادہ وقت اور سرمایہ خرچ کررہے ہیں تاکہ جلد از جلد کورونا کی

ویکسین تیار کی جاسکے اور انسانوں کو اس عالمی وبا سے محفوظ رکھا جاسکے۔پاکستان میں بھی اس حوالے سے ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین کام کررہے ہیں اور گزشتہ دنوں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے گلوبیولن تیار کرکے دنیا پر سبقت لے گئے ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا کے صحتیاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن( آئی وی آئی جی) تیار کرلی ہے جس کے ذریعے کورونا متاثرین کا علاج کیا جاسکے گا۔ڈاؤ یونیورسٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ علاج پلازما تھراپی سے بالکل ہی مختلف ہے، ماہرین نے لیبارٹری ٹیسٹنگ اور حیوانوں پر اس کا سیفٹی ٹرائل کرکے حاصل ہونے والی ہائپر امیونوگلوبیولن کو کامیابی کے ساتھ تجرباتی بنیادوں پر انجیکشن کی شیشیوں (وائلز) میں محفوظ کرلی ہے۔دنیا میں اب تک جتنی بھی ویکسین تیاری کے مراحل میں ہیں ان کا انسان پر تجربہ اب تک صرف امریکا میں کیا گیا ہے تاہم اس کے نتائج فی الحال سامنے نہیں آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…