’’غریب عوام کیلئےسبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی ‘‘ حکومت کی اہم کامیابی،وزیراعظم نے شاندار اعلان کر دیا

  جمعہ‬‮ 28 فروری‬‮ 2020  |  16:13

اسلام آباد (این این آئی)وزیرِ اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کی کامیابی پر بھی اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران عوام کو منی بجٹ سے محفوظ رکھنا حکومت کی اہم کامیابی ہے اور فنڈ کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ان کی سمت پر اعتماد کا مظہر ہے ، مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے، سبسڈی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ


رقم متعلقہ افراد اور متعلقہ مقصد کے لئے فائدہ مند ثابت ہو،موجودہ حکومت اداروں کی کرپشن اور انتظامی بد عنوانی اور غفلت کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دیگی۔ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کم آمدنی والے اور کمزور طبقوں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کیاثرات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، گورنر اسٹیٹ بنک سید رضا باقر، سیکرٹری خزانہ و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔اجلاس میں توانائی، فوڈ(خوراک)، فرٹیلائزر زکے شعبے میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سبسڈی کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے احساس پروگرام ، برآمدات میں اضافے کے لئے مختلف شعبہ جات اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے حکومت کی جانب سے گذشتہ اور رواں مالی سال میں فراہم کی جانے والی رقوم کا حجم اور اسکیاستعمال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کا بنیادی مقصد عوام اور خصوصاً کمزور اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف پہنچانا، صنعتوں کا فروغ اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ توانائی کے شعبے میں مجموعی طور پر 251 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ تین سو سے کم یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لئے کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے اس سال 162ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے ساڑھے آٹھ ارب روپے، جبکہ انضمام شدہ علاقوں کی عوام کے لئے اٹھارہ ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کمشیر اور کے الیکٹرک کے لئے بالترتیب تین ارب اور 25ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صنعتی شعبے کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی کے لئے دس ارب روپے جبکہ گیس کی فراہمی کی مد میں چوبیس ارب روپے مہیا کیے جا رہے ہیں۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی حکومت کی جانب سے اربوں روپے سبسڈی کی مد میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں اسٹریٹیجک ذخائر کو یقینی بنانے کے لئے پانچ ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے گندم کے بقایا جات کی مد میں آٹھ ارب روپے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر رمضان پیکیج کے لئے ڈھائی ارب روپے جبکہ پرائم منسٹر ریلیف پیکیج کی مد میں اکیس ارب روپے سبسڈی ہے۔ گلگت بلتستان کے لئے گندم پیکج کی مد میں رواں مالی سال کے لئے چھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اجلاس میں سماجی تحفظ کے احساس پروگرام کے تحت 192 ارب روپے اور اس پروگرام کے مختلف شعبہ جات مثلاً کفالت، وسیلہ تعلیم، انڈر کریجویٹ اسکالرشپ، پاورٹی گریجوئیشن، اثاثہ جات کی منتقلی، بلا سود قرضوں و دیگر شعبوں کے لئے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رقم کی مکمل تفصیلات پیش کی گئیں ۔ اجلاس میں برآمدات میں اضافے اور ریلوے کے شعبے میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رقوم کی تفصیلات بھی پیش کر دی گئیں ۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم متعلقہ افراد اور متعلقہ مقصد کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم نے سبسڈی کے اثرات کے جائزے کی اہمیت پر زور دیا۔ توانائی اور دیگر شعبوں میں صورتحال اور عوام پر سے بوجھ کم کرنے کے حوالے سے حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اداروں کی کرپشن اور انتظامی بد عنوانی اور غفلت کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے کی کامیابی پر بھی اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی سال کیدوران عوام کو منی بجٹ سے محفوظ رکھنا حکومت کی اہم کامیابی ہے اور فنڈ کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ان کی سمت پر اعتماد کا مظہر ہے ۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ توانائی کو ہدایت کی کہ بڑے بجلی چوروں کو پکڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کارٹیلز اور ناجائز منافع خوری کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف ایکشن پر بھی بھرپور توجہ دی جائے تاکہ عوام کو چوری ، سسٹم کی کوتاہیوں اور استحصال سے بچایا جا سکے۔


موضوعات: