جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن میں اربوں کی کرپشن کا انکشاف ، اربوں روپے کے پلاٹ غیر مستحق لوگوںکو الاٹ،6گاڑیاں سرکاری پیٹرول و ڈیزل پر افسران کے دوستوں کے حوالے

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے ذیلی ادارہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن میں اربوں روپے کی کرپشن ، مالی بدعنوانی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ ادارہ کے اعلیٰ افسران نے اربوں روپے پلاٹ غیر مستحق لوگوں کو الاٹ کرکے قومی خزانہ کو بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔

جبکہ ادارہ کی چھ عدد گاڑیاں افسران کے اپنے ذاتی دوستوں کے حوالے کرکے پٹرول اور ڈیزل کی مد میں دو کروڑ روپے بھی نچھاور کررہے ہیں ادارہ میں محکمہ نے احتسابی عمل نہ ہونے سے ہر سال کی کروڑوں روپے کی رشوت کا بازار گرم ہوتا ہے ،وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی دیانتداری اور صاف گوئی کو بھی کرپٹ افسران نے دائو پر لگا رکھا ہے جبکہ کرپشن سے پوری وزارت کا تشخص بھی تباہ کردیا ہے، اس کا انکشاف ایک سرکاری رپورٹ میں ہوا ہے جو وزارت نے اپنے ذیلی ادارہ کے لئے کررکھا ہے ۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کے کرپٹ افسران نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی ٹین اور جی 15میں ترقیاتی کام کے نام پر 25 کروڑ روپے ٹھیکہ دار کو دے کرکرپشن کی انتہا کردی تھی رپورٹ میںانکشاف ہوا کہ کہ فائونڈیشن کی چھ گاڑیاں غیر سرکاری افراد کے زیر استعمال ہیں جس پر فائونڈیشن کے فنڈز سے دو کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ قواعد کے برعکس این سی ایل نامی کمپنی کو گیارہ کروڑ پچیس لاکھ ایڈوانس دے کر واپس بھی نہیں لئے ہیں افسران کی نااہلی کے باعث جی 13میں ساڑھے دس ارب روپے کے منصوبہ شروع بھی نہیں ہوسکا جس کے باعث قومی خزانہ کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

جبکہ بہارہ کہو ہائوسنگ منصوبہ میں بلاوجہ تاخیر سے قومی خزانہ اور الاٹیوں کو بھاری مالی نقصان پہنچ چکا ہے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حکام نے ہائوسنگ سکیموں میں چالیس کروڑ روپے کے پلاٹ غیر مستحق افراد کو الاٹ کررکھے ہیں جبکہ من پسند افراد سے 34 کروڑ روپے پلاٹوں کی قیمت اور تاخیری حربے کی مد میں وصول نہیں کئے جاسکے ہیں بھاری فنڈز کا استعمال اور مختص ہونے کے باوجود جی 13 اور جی 14 میں سیوریج کا منصوبہ بھی مکمل نہیں کیاجاسکا اور اس منصوبہ میں تاخیر سے بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…