جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی توقعات پر پورا اُتروں گا لیکن حکومتی ریفرنس میں نہیں پڑوں گا ،نئے اٹارنی جنرل نے دوٹوک اعلان کردیا

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید نے کہا ہے کہ تعیناتی سے قبل ہی وزیراعظم عمران خان کو بتا دیا تھا وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے پیش نہیں ہوں گے’ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے۔

ریکوڈک کیس پاکستان کی معاشی بقاء کا مقدمہ ہے’کیس ہار گئے تو پاکستان کے بین الاقوامی اثاثوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ ریکوڈک کیس پاکستان کی معاشی بقاء کا مقدمہ ہے’کیس ہار گئے تو پاکستان کے بین الاقوامی اثاثوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ ریکوڈک کیس میں پاکستان کے حق میں آنے والا حکم امتناع مستقل ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو کیس ہو یا پرویز مشر ف غداری کیس دیانت داری کے ساتھ عدالتی معاونت کروں گا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں واضح کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں حکومتی دفاع نہیں کروں گا۔انہوں نے کہاکہ میرا سیاسی پس منظر ضرور ہے تاہم میری کسی سے سیاسی وابستگی نہیں، وزیراعظم کی ترجیحات میں پاکستان کے خلاف چلنے والے بین الاقوامی مقدمات ہیں۔پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں میں قائم حراستی مراکز کے مقدمے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا میں کسی مقدمے کو طویل کرنے یا دبانے کے حق میں نہیں ہوں۔

میں نے وزیر اعظم پاکستان کو جن زیر سماعت مقدمات کی ترجیح بنیاد پر سماعت بارے فہرست دی ہے ان میں حراستی مراکز کا مقدمہ بھی شامل ہے،درخواست گذارجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عزت سب پر لازم ہے،وزیر قانون فروغ نسیم کیساتھ آرام دہ ہوں،میں نے انگریزی اخبار میں چھپی خبر سے متعلق وزیر قانون سے پوچھا انھوں نے انکار کیا پھر تحریری صورت میں خط لکھ کر پوچھا کیونکہ زبانی باتیں خطر ناک ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج ہم جوہری صلاحیت کی حامل 1 ارب سے زائد انسانوں پر مشتمل ریاست بھارت کو نازی ازم کی وارث آر ایس ایس کے ہاتھوں میں گرتا دیکھ رہے ہیں۔ نفرت کی بنیاد پر نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ جب بھی غالب آتا ہے، قتل و غارت گری اور خونریزی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…