جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

دہلی میں چن چن کر مسلمان قتل، املاک تباہ، ہلاکتیں 19 ہوگئیں، کرفیو نافذ، گولی مارنے کا حکم

datetime 26  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)دہلی میں چن چن کر مسلمانوں کو قتل کرنےکا سلسلہ جاری ہے، مساجد پر حملے اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جارہاہے، دہلی کے شمال مشرقی حصے میں ہنگاموں کے بعد کرفیو نافذ کردیاگیا ہے جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔

اےایف پی کے مطابق ہندو مسلم فسادات میں 19 افراد قتل جبکہ 150 زخمی ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس کے غنڈے جھنڈے لے کر مساجد کےمیناروں پر چڑھ گئے،ادھر کئی عمارتوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ہنگامہ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔تعلیمی بورڈ نے آج  10ویں اور 12ویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔ہندو انتہاپسندوں نے گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایمبولینسوں پر بھی حملے کیے،ادھر شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین میں شامل ایک شخص نے کہا ʼہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، کوئی بھی تشدد نہیں چاہتا ہے۔ایک ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد ہمارے ذہن پر خوف طاری ہے لیکن اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔دوسری جانب رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے کپل مشرا کی ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ ʼیہ تمام ہنگامے بی جے پی کے رہنما کی وجہ سے ہو رہے ہیں، انھیں فوراً گرفتار کیا جانا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے بعد تلواروں ،پتھروں اور بندوقوں سے لیس ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر شہر کے مختلف حصوں میں حملہ کردیا ۔

گرو تیج بہادر اسپتال کے راجیش کالرا نے 19 افراد کی ہلاکت جبکہ 150 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔دریں اثنا ہلاکتوں کے بعد پولیس کمشنر کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ شہر میں 8ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں اور 4تھانوں کی حدود میں ہنگامہ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور لگ بھگ 200 زخمیوں میں 56 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ منگل کو دوبارہ شروع ہوا جہاں مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا اور کم از کم دو گاڑیوں کو آگ لگادی۔ پولیس نے بتایا کہ اسے مختلف علاقوں سے شہریوں نے فون کرکے جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کی وارداتوں سے متعلق اطلاعات دی ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق گوکل پوری، موج پور، بھجن پورہ اور کراوال نگر سے شہریوں کے فون موصول ہونے کے بعد ان علاقوں میں پولیس تعینات کردی گئی ہے اور اب حالات معمول پر ہیں۔دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے تشدد کے واقعات کے بعد گیارہ ایف آئی آرز درج کی ہیں اور بیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…