جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بنی گالہ کا گھر خالی کرا کرچین میں پھنسے بچوں کو یہاں رکھیں، والدین کا وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)چین میں پھنسے طلبہ کے والدین نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ بنی گالہ کا گھر فوری خالی کریں اور چین سے ہمارے بچوں کو واپس لا کر یہاں رہائش پذیر کرائیں،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ،آرمی چیف اور اعلی حکام سے چین میں بچوں کی واپسی کیلئے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔

ہفتہ کے روز چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کے والدین نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چین سے بچوں کو واپس لائیں یا چین کے کسی اور صوبے میں لے جائیں،انہوں نے کہا کہ بچوں کو اپنے خرچہ سے واپس بلانے کے لیے تیار ہیں حکومت واپس آنے کی اجازت دیدیں۔ والدین کا کہنا تھا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا طلبہ سے رابطہ کریں گے ،حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا چین میں پاکستانی طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں ، چین کے شہر اوہاں میں صرف پاکستانی طلبہ ہیں دیگر ممالک کے طلبہ اپنے وطن واپس جا چکے ہیں ، پاکستانی طلبہ چین میں بہت پریشان ہیں اور سراپا احتجاج ہیں ، والدین نے مطالبہ کیا کہ بچوں کو خوف سے نکالیں اوہاں سے چین کے دوسرے شہر منتقل کریں۔ والدین نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف آف آرمی سٹاف سے چین میں زیر تعلیم بچوں کو ملک واپس لانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی اپیل کی۔ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی والے کہہ رہے ہیں پچوں کو چین سے واپس اپنے ملک لے جائیں۔

اوہاں یونیورسٹی 170 بچے پھنسے ہوئے ہیں حکومت کہتی ہے دو بندے بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشیر صحت ظفر مرزا معاملے کو التوا میں ڈالنا چاہتا ہے، ایک بچے کے والد صفدر نے کہا کہ کروناوائریس کے خلاف اس طرح جنگ لڑیں جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے، انہوں نے کہا کہ چین میں پھنسے بچے شاید کرونا وائرس سے نہ مریں لیکن خوف سے مرسکتے ہیں، چین میں پاکستانی طلبہ کے پاس پانی پینے کے لیے دستیاب نہیں،حکومت اس حوالے سے جھوٹے وعدے کر رہی ہے وزیراعظم عمران خان بنی گالہ کا گھر خالی کردیں وہاں طلبہ کو رکھیں ، وزیراعظم عمران خان چین میں پھنسے ہوئے طلبہ کے والدین کے جذبات سے نہ کھیلیں ،پاکستانی طلبہ قوم کو سرمایہ ہیں اْنہیں محفوظ بنائیں۔ روبینہ ریاض نے کہا کہ چین حکومت بچوں کروناوائریس نہ ہونے کے حوالے سے سرٹیفکٹ دینے کو تیار ہیں تا ہم پاکستانی حکومت تعاون کرنے کو تیار نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…