جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ن لیگ کا خواتین ایم پی ایز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ، فعال اور غیر فعال اراکین کے نام سامنے آگئے

datetime 11  فروری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(آن لائن)مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے خواتین ایم پی ایز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی خواتین ارکان کی مایوس کن پارلیمانی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان کی تعداد اس وقت پنجاب اسمبلی میں 30 ہے لیکن ان میں سے چند ہی فعال ہیں جن میں ذکیہ شاہنواز، عظمیٰ بخاری، مہوش سلطانہ، تہیہ نون، کنول پرویز، گلناز شہزادی، حسینہ بیگم، رخسانہ کوثر، رابعہ فاروقی، سنبل ملک، زیب النسا اعوان، عنیزہ فاطمہ شامل ہیں جبکہ غیر فعال خواتین میں عشرت اشرف، سعدیہ ندیم ملک، ثانیہ عاشق، اسوہ آفتاب، صبا صادق، سیدہ عظمیٰ قادری، ربیعہ نصرت، راحت افزا، منیرہ یاسمین ستی، خالدہ منصور،رابعہ احمد بٹ، فائزہ مشتاق،بشریٰ انجم بٹ، سمیرا کنول، راحیلہ خادم اور نفیسہ امین شامل ہیں۔صبا صادق کی طرف سے کبھی اسمبلی بزنس نہیں آیا نہ ہی پارٹی کے کسی پروگرام میں شامل ہوتی ہیں، ن لیگ کی جانب سے انہیں قانون ساز کمیٹی کی ممبر بھی بنایا گیا مگر اس میں بھی یہ غیر فعال ہی ہیں، اسی طرح راحیلہ خادم پارٹی کے پروگرامز میں کبھی کبھار ہی تشریف لاتی ہیں، اسی طرح حنا پرویز بٹ کی اسمبلی بزنس میں پارٹی کے حوالے سے صفر کارکردگی ہے۔ اکثر لیگی خواتین اجلاسوں کے موقع پر حاضری لگا کر چلی جاتی ہیں اب ان کی بھی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ن لیگ کی قیادت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ جو بھی ممبر بنے گی اسے اس کی سیاسی کارکردگی کی بنیاد بنایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا تھا قیادت کی طرف سے ان دو خواتین ارکان کیخلاف بھی ڈسپلنری ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنہوں نے سینیٹ الیکشن کے موقع پر مخالف امیدوار کو ووٹ دیا تھا، اعلیٰ قیادت نے پارٹی کو لیگی خواتین کی اسمبلی حاضری اور پروگراموں میں شرکت کا ریکارڈ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ لیگی خواتین ارکان کے غیر فعال ہونے سے لیگی خواتین کارکنان میں بھی مایوسی پائی جاتی ہے، ان کا کہنا تھا بعض خواتین کو پارٹی کی متحرک خواتین کو چھوڑ کر ممبر اسمبلی بنایا گیا ہم پارٹی کے ہر پروگرام میں باقاعدہ شرکت کرتی ہیں اور خواتین کو بھی لیکر آتی ہیں مگر جن کو پارٹی نے نوازا ہے وہ تنخواہیں اور مراعات کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی سمیع اللہ کا کہنا تھا ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کی مانیٹرنگ کا باقاعدہ نظام موجود ہے، 16 مختلف گروپ قائم کیے ہوئے ہیں جو ارکان کی حاضری، اسمبلی بزنس اور کارکردگی بارے اعلیٰ قیادت کو آگاہ کرتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…