جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

لال مسجد تنازع تھم گیا، فریقین کے درمیان بڑا بریک تھرو

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) لال مسجد میں سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھتیجے ہارون رشید کی آمد کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مابین پیدا ہو نے والی کشیدگی ختم ہو گئی۔روزنامہ جنگ کے مطابق پولیس نے نہ صرف لال مسجد کا محاصرہ ختم کر دیا بلکہ میلوڈی روڈ پر رکاوٹیں بھی ختم کر دیں۔

مذاکرات کے پہلے دو رمیں مولانا عبدالعزیز ایچ الیون میں جامعہ حفصہ کو الاٹ کئے گئے پلاٹ سے قبضہ ختم کر نے پر رضامند ہو گئے ہیں اور وہاں موجود طالبات کو واپس بلا لیا ہے۔ابتدائی کامیا بی کے بعد ضلعی انتظا میہ نے مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھتیجے ہارون رشید سمیت لال مسجد میں موجود خواتین کو مسجد سے نکا لنے کی ضد ختم کر دی ہے۔مولانا نصیر احمد ،مولانا عبد الوحید قاسمی،مولانا یاسرقاسمی،مفتی اویس عزیز ،مولانا عبدالرزاق حیدری اور مولانا شبیر کشمیری ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور مولاناعبدالعزیز کے مابین مصا لحت کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس اور لال مسجد آتے جا تے رہے، بتایا جاتا ہے کہ مولاناعبدالعزیز کےداماد سلمان شاہد ایڈووکیٹ نے بھی اس مصالحت میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ضلعی انتظا میہ نے تر کی کے صدررجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ کشیدگی کی راہ بند کی ہے۔شہداء فاؤنڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام احمدنے مولانا عبدالعزیز اور وفاقی انتظامیہ کے مابین مذاکرات کے ابتدائی دور کی کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ہے ،مولانا عبدالعزیز،ان کی اہلیہ ام حسان اور وفاقی انتظامیہ مذاکرات کے ابتدائی دور کی کامیابی پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

خوشی ہے کہ دونوں فریقین نے حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے بردباری کا مظاہرہ کیا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے مذاکرات ختم ہو نے بعد بتا یا کہ ضلعی انتظا میہ کی کسی سے شخصی عداوت نہیں ،مولانا عبدالعزیز کا مطا لبہ ہے کہ 2007 ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہما رے جائز مطالبات تسلیم کر کے ان پر عمل درآمد کر دیا جا ئے ،ہم لال مسجد خالی کر دیں گے،ہم بھی ان کے جائز مطالبات کی تائید کرتے ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…