پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

احسان اللہ احسان کے فرار کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا،معاملہ عدالت میں جا پہنچا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اے پی ایس سانحے میں شہید طالبعلم کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں ریاستی اداروں کیخلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرنے کی درخواست کردی۔

نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق درخواست گزار ایڈووکیٹ فضل خان نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو مبینہ طور پر رہا کرنے کے منصوبے کے خلاف دائر کی گئی گزشتہ درخواست میں انہیں دیے گئے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کی درخواست میں سینئر حکومتی اور سیکیورٹی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے صاحبزادہ عمر خان اے پی ایس کے ان 148 طالب علموں اور اساتذہ میں سے تھے جو 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت سے وہ صوبے کے سب سے تاریک دن میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ کسی اور بچے کے والدین کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی نے حملے کے اگلے ہی روز اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی اور حملے کے تقریباً 3 سال بعد مرکزی ملزم احسان اللہ احسان نے گرفتاری دی یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں کچھ امید ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ ایجنسیوں نے احسان اللہ احسان کے حوالے سے تصویر پیش کی کہ انہیں کچھ معلوم نہیں تھا یا معصوم تھے یا ان کا برین واش کیا گیا تھا اور انہوں نے نادانستہ طور پر صوبے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

فضل خان نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جس پر فریقین نے بیان دیا تھا کہ دہشت گرد احسان اللہ احسان کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوگا اور ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ احسان اللہ احسان کا ٹرائل کیے جانے کے بجائے انہیں عالیشان گھر دیا گیا تھا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کو احکامات جاری کیے کافی وقت گزر چکا ہے تاہم بدقسمتی سے فریقین نے اپنی نا اہلی سے احکامات پر عمل در آمد نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ درخواست دائر کی گئی ۔خیال رہے کہ 6 فروری کو احسان اللہ احسان نے کا آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…