جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حمزہ شہبازکی درخواست ضمانت منظور

datetime 6  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے رمضان شوگر ملز ریفرنس کیس میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کرلی جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 11فروری تک ملتوی کردی گئی۔

دوران سماعت فاضل عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جو آپ (نیب)لوگوں کی تحقیقات کا معیار ہے اس پر آپ سب کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینا چاہیے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی نقوی کی سربراہی میں جسٹس عبدالعزیز پر مشتمل دورکنی بنچ نے درخواست ضمانت کی سماعت کی ۔عدالت نے قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ جب عدالت میں ریفرنس فائل ہو گیا تو بھی ضمنی ریفرنس کیوں دائر کیا گیا۔جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ تحقیقات میں جب بھی کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے اس پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جاتا ہے۔عدالت نے پراسیکیوٹر سے دریافت کیا کہ آپ وہ قانون بتا دیں کہ جس کی رو سے ریفرنس فائل ہونے کے بعد ضمنی ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے، اگر نیب کے تفتیشی افسر 90 دن میں کوئی چیز فائنل نہیں کر سکتے تو کیا وہ وہاں بیٹھ کر کیرم بورڈ کھیلتے ہیں؟۔حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری بدنیتی پر مبنی ہے، ابھی تک نیب نے جو دستاویزی ثبوت حاصل کیے ان میں بھی کہیں حمزہ شہباز کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ رمضان شوگر ملز میں 7 ڈائریکٹرز تھے جن میں سے ایک حمزہ شہباز تھے۔عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ سے جو بات پوچھی جائے اس کا آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا۔

آپ قوم کا وقت اور پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟۔عدالت نے نیب کے وکیل سے پوچھا کہ جو نالے بنائے گئے کیا وہ صرف اس رمضان شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کے لئے تھے؟ آپ اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کے شواہد لے کر آئیں۔جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جس تفتیشی افسر نے کیس کی تحقیقات کی تھیں وہ اپنے امتحانات کی وجہ سے چھٹی پر ہیں۔جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے ریمارکس دئیے کہ جو آپ لوگوں کی تحقیقات کا معیار ہے اس پر آپ سب کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینا چاہیے۔

آپ کا زیادہ سے زیادہ کیس یہ ہے کہ اختیارات کے استعمال میں ڈنڈی ماری گئی ہے، آپ یہ بتا دیں کہ اختیارات میں شہباز شریف طاقتور تھے کہ حمزہ شہباز شریف؟۔عدالت نے مزید کہا کہ اس ملک کو کوئی ٹھیک نہیں کر سکتا یہ ایسے ہی چل سکتا ہے، ہم نے صرف اپنے خدا کو جان دینی ہے اور جو فیصلہ کرنا ہے وہ حق پر کرنا ہے۔بعدازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کر لی اور آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 11فروری تک ملتوی کردی۔حمزہ شہباز کی ایک کیس میں درخواست ضمانت منظور ہونے کی خوشی میں عدالت کے باہر موجود رہنمائوں اور کارکنوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی قیادت کے حق میںنعرے لگائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…