’’ اگر امریکہ ہماری بات مان لیتا تو افغانستان میں 19سال جنگ نہ لڑنی پڑتی ‘‘ افغان طالبان کیساتھ امریکی معاہدہ کامیاب نہ ہوا تو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟ چین اور امریکا مستقبل کیسا ہو گا ؟ پیش گوئی کر دی گئی

  جمعہ‬‮ 31 جنوری‬‮ 2020  |  9:28

کراچی( آن لائن ) اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ ہماری بات مان لیتا تو افغانستان میں 19سال جنگ نہ لڑنی پڑتی۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی طویل جنگ میں امن معاہدے کے اتنے قریب کبھی نہیں تھے جتنے اب ہیں لیکن امریکہ کتنے فوجی رکھنا چاہتا ہے؟ مستقبل میں افغانستان کسی جنگ کیلیے استعمال نہیں ہوگا اور سیز فائر جیسی شرائط پر دونوں فریقین میں رضامندی ہونا باقی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور افغانستان اہم شراکت


دار ہیں جو کچھ کرنا ہے ان دوممالک نے کرنا ہے پاکستان صرف مدد کر سکتا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کا ماضی امریکہ کے ساتھ تعلقات پر اثراندازہوتا ہے، ہماری خارجہ پالیسی میں عوام کی خواہش بھی شامل ہونی چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ پالیسی ساز عوام کی آواز بھی سنیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہر تعلق ایک خاص ماحول میں پروان چڑھتا ہے اور اب ماحول ماضی جیسا نہیں رہا۔ کوئی ملک اکیلا آگے نہیں بڑھ سکتا، چین اور امریکہ کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل ہے لہذا مستقبل میں بھی سفارتی محاذ پر مسائل رہیں گے۔ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ اگر طالبان امریکہ میں معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان سمیت سب کا نقصان ہوگا لیکن زیادہ امکان ہے کہ مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ سابق سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان شروع دن سے کہہ رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل جنگ کی بجائے مذاکرات میں ہے، اگر امریکہ پاکستان کا مشورہ مانتا تو اس کو تاریخ کی طویل ترین جنگ نہ لڑی پڑتی۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی اور کشمیر پر آواز بلند کرنا ایک خاص امتیاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 53 سال بعد کشمیر پر سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہونے سے پتا چلتا ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے مسئلہ کشمیر پر مہم مزید تیز کرے۔ سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران کی بات زیادہ مانی جاتی ہے اور ان میں زیادہ تر بھارت کے اتحادی ہیں جس کے سبب پاکستان کیلئے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ایک سوال کیجواب میں ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بات کرتا ہے لیکن دنیا صرف انسانی حقوق پر بات کرنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق پالیسیز بناتا ہے لیکن عوامی دباؤ کو بھی مسترد نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو ایسی سمت میں جانا چاہیے جس کے سبب بھارت اپنے اقدامات واپس لے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر نے کہا کہ مودی نے بھارتی تشخص کو نقصان پہنچایا ہے جس سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگر بھارت روز دھمکی دے گا تو کوئی اس کو سنجیدہ نہیں لے گا لہذا بھارت کی دھمکیوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت تیار نہ ہو کوئی کچھ نہیں کرسکتا، ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں پلان بھی سب کے سامنے ہے جس کو سب نے مسترد کردیا ہے۔


موضوعات: