کرپٹ اسٹیٹس کو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے،تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نہ ہی اپنے نظریے پر سمجھوتہ کروں گا،وزیراعظم عمران بھی کرپٹ مافیا کیخلاف ڈٹ گئے

  جمعرات‬‮ 23 جنوری‬‮ 2020  |  21:37

ڈیووس (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اصلاحات ایک دردناک عمل ہے جس سے گزرے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا،عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے مگرفرسودہ نظام میں اصلاحات لانا آسان نہیں ہوتا،کرپٹ اسٹیٹس کو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے،تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نا ہی اپنے نظریے پر سمجھوتہ کروں گا،پاکستان میں ہماری حکومت نے کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جن میں سے کچھ اب جیل میں ہیں،کامیابی کیلئے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، اس کیلئے کوئی پلان بی نہیں ہونا چاہیے، دوسری پوزیشن پر آنے والے کو کوئی انعام نہیں


ملتا، پاکستان کی اصل طاقت ہمارے ملک کے عوام ہیں، میرا یقین ہے گڈگورننس سے پاکستان ترقی کریگا، پاکستانیوں کے پاس صلاحیتوں کے ساتھ وسائل بھی ہیں،غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے، ہماری سمت درست ہے، پاکستان کے لئے اچھا وقت شروع ہونے والا ہے، اب عوام کو آگے بڑھنے کا جامع روڈ میپ دے سکتے ہیں،ڈیووس میں میرے قیام کے اخراجات اکرام سہگل اور محمد عمران نے برداشت کئے۔جمعرات کو یہاں پاکستان بریک فاسٹ میٹ میں اہم کاروباری شخصیات سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کی اہم شخصیات ڈیووس میں موجود ہیں، یہاں آنے کا مقصد کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ یہاں ایک جگہ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے جن سے ملنے کے لیے آپ کو بہت زیادہ سفر اور اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ڈیووس میں قیام بہت ہی مہنگا ہے، میں حکومت کا اس پر خرچ نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔انہوں نے کہاکہ ڈیووس میں میرے قیام کے اخراجات اکرام سہگل اور محمد عمران نے برداشت کئے۔ ڈیووس آنے والے وزرائے اعظم میں سے سب سے سستا دورہ میرا ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو بتایاکہ جب میں نے کرکٹ شروع کی تو پہلے ٹسیٹ میچ میں ہی مجھے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں پر امید رہنا ہوتی ہے،اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیا کرتے ہیں، زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے آپ کو مشکل حالات میں جیتنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غریب اور معاشرے کے نچلے طبقے کے افراد میں آگے بڑھنے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے ملک کے انتہائی پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی بنائی۔ میانوالی کی نمل یونیورسٹی میں طلبا کو بریڈ فوڈ یونیورسٹی سے ڈگری جاری ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ نمل یونیورسٹی میں زیر تعلیم غریب طلباء میں بہت صلاحیت دیکھنے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ جب میری والدہ کینسر میں متلا ہوئیں تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں کینسر ہسپتال ہی نہیں۔انہوں نے کہاکہ والدہ کی تکلیف دیکھ کر ارادہ کیا کہ پاکستان میں غریب مریضوں کے لئے کینسر کا ہسپتال بناؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا علاج مفت کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ شوکت خانم کینسر ہسپتال پر 10 ارب سالانہ خرچ آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو پارٹی نظام کے علاوہ تیسری پارٹی کی کوئی گنجائش نہیں تھی جس طرح انگلینڈ اور امریکا میں ہم نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بڑے ہدف کو پانے کے لئے آپ کو کشیتیاں جلانی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کرنے کی بہت صلاحیت ہے،60ء کی دہائی میں پاکستان دنیا کے کئی ملکوں کے لئے ایک مثال تھا،قوم میں امید تھی لیکن پھر ایسا دور آیا جب اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل چلتا رہا اور پاکستان بنانے کے مقصد سے ہم نے روگردانی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریئے کے تحت وجود میں آیا،ہمیں وہ فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ قائد اعظم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بے پناہ وسائل اور صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ریکو ڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کی 14 کانیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صرف 2 کانوں کا منافع 100 ارب ڈالر سے زائد ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں گیس،کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں۔ انہوں نے کاکہ میرا وژن پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا ہے، حکومت صنعتوں کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لئے ملک میں آسانیاں پیدا کرنے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد نے بڑی محنت سے ملائیشیا کو ترقی یافتہ ممالک کی راہ پر گامزن کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا تھا۔ پاکستان میں ہماری حکومت نے کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جن میں سے کچھ اب جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کواقتدار میں آنے کے بعد ریاستی اداروں کی خراب صورتحال کا سامنا تھا، ایک اور چیلنج سابق حکومت کی جانب سے لئے گئے قرضوں کا انبار تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زیر گردش قرضوں کا حجم اربوں روپے تک بڑھ چکا ہے،اگر میرا مشکل حالات میں آگے بڑھنے کا تجربہ نہ ہوتا تو میں بھی حوصلہ ہار دیتا۔انہوں نے کہا کہ فرسودہ نظام میں اصلاحات لانا آسان نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے حکومت کے پہلے سال جاری حسابات کے خسارہ میں 75 فیصد کمی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا میرا وژن ہے۔ انہوں نے کہاکہ پسماندہ طبقات کو اوپر لائیں گے، احساس پروگرام کے ذریعے معاشرے کے غریب طبقات کی مدد کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے اقدامات کی بدولت معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ مستحکم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے۔ ہماری سمت درست ہے۔ پاکستان کے لئے اچھا وقت شروع ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں پر امید رہنا ہوتا ہے، اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیتے ہیں، زندگی میں آگے جانے کے لیے آپ کو مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ غریب اور معاشرے کے نچلے طبقے میں آگے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے،میں نے اپنے ملک کے انتہائی پسماندہ علاقے میں نمل یونیورٹی بنائی، میانوالی کی نمل یونیورسٹی کو بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے ڈگری جاری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نمل یونیورسٹی میں زیر تعلیم غریب طلبا میں بڑی صلاحیت دیکھنے کو ملی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ میرے لیے زندگی کا سب سے مشکل ترین وقت رہا اور اس عرصے میں ہماری حکومت کو مختلف محاذوں پر بڑے چیلنجز کا سامنا رہا'۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے بعد اب عوام کو آگے بڑھنے کا جامع روڈ میپ دے سکتے ہیں۔پاکستان میں سیاحت کے فروغ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمارے شمالی علاقوں میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت پہاڑ ہیں، 5 ہزار سال قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں اور 4 بڑے مذاہب کے تاریخی مقدس مقامات بھی موجود ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ صرف سیاحت کو ہی ترقی دے کر پاکستان کو بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت سے سوئٹزرلینڈ سالانہ 80 ارب ڈالر اور ترکی 20 ارب ڈالر کمارہا ہے اور ہم بھی سیاحت کو فروغ دے کر پاکستان کی مجموعی برآمدات سے بھی زائد کما سکتے ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎