اب ہم کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، صرف کن ممالک کے شراکت دارہوں گے، سعودی عرب ،ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ، وزیراعظم عمران خان نے بڑا اعلان کر دیا

  بدھ‬‮ 22 جنوری‬‮ 2020  |  23:02

ڈیووس(این این آئی )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی اور غربت بڑھی،ہم ملک میں سرمایہ کاری لا رہے ہیں، روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں،نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے پروگرام وضع کیا گیا ہے۔حکومت کی توجہ معدنی وسائل کوبروئے کارلانے پر ہے، پاکستان قدرتی مناظر سے مالامال ہے اور اس کو بچانے کے لیے ہم نے ختم کیے گئے جنگلات کی دوبارہ بحالی کے اقدامات کیے ہیں اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت میں رہتے ہوئے ہم نے ایک بلین درخت لگائے۔ وزیراعظم بننے کے بعد میں نے


فیصلہ کیا کہ آئندہ 4 سالوں میں ملک میں 4 بلین درخت لگائے جائیں گے۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے اور شہروں میں ہونے والی آلودگی خاموش قاتل بن چکی ہے۔ ملک میں امن واستحکام تک ہم معاشی ترقی نہیں کرسکتے۔1980 کی دہائی میں شروع ہونے والے فغان جہاد کے اختتام کے بعد عسکری تنظیمیں ہمارے پاس رہ گئیں جس کے مضر اثرات کا ہمیں سامنا کرنا پڑا، اسلحے اور منشیات کے کلچر نے ہمیں متاثر کیا۔ پاکستان میں اب کوئی دہشت گردی نہیں ہورہی ، اب مسئلہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کاہے، پاکستان افغانستان میں امن کیلئے سہولت کارکاکردارا داکر رہاہے۔ افغانستان میں امن کیلئے طالبان اورافغان حکومت کو مل بیٹھنا ہوگا،طالبان اورافغان حکومت مل بیٹھیں گے تومعاملات حل ہوناشروع ہوجائیں گے۔نائن الیون کے بعد پاکستان ایک بار پھر امریکا کے ساتھ جنگ میں شامل ہوگیا جس کے نتیجے میں ملک میں دوبارہ بدامنی کو فروغ ملا، نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکے دیکھنے میں آئے اور 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوگئے اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرنات ترین ممالک میں ہونے لگا جب کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا100بلین ڈالرکانقصان ہوا۔ نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شراکت داری کا مخالف تھا، نائن الیون میں پاکستان کاکوئی لینادینانہیں تھا۔ اب ہم کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے اور صرف امن کے خواہاں ممالک کے شراکت دارہوں گے، ہم نے سعودی عرب ،ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے، جنگ سے ہرطرف تباہی ہی تباہی ہوگی، تاہم ڈونلڈٹرمپ نے میرے موقف پر کوئی جواب نہیں دیا، مجھے سمجھ نہیں آتاکہ ممالک تنازعات کاحل فوجی طاقت سے کیوں حل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خوش گوار نہیں ہیں تاہم اگر دونوں ممالک میں تعلقات معمول پر ہوں اور باہمی تجارت ہورہی ہو تو ہم اپنی تزویراتی پوزیشن کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرسکتے ہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں کہا کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے تاہم جب میں بڑا ہوا توبرطانیہ جانے تک مجھے نہیں پتا تھا کہ ایک فلاحی ریاست کیسی ہوتی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے سوچ لیا تھا کہ جب بھی مجھے موقع ملا میں پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بناؤں گا اور اب یہی میرا وڑن ہے کہ ایسی حکومت ہو جو کمزور طبقے کی فکر کرے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی مناظر سے مالامال ہے اور اس کو بچانے کے لیے ہم نے ختم کیے گئے جنگلات کی دوبارہ بحالی کے اقدامات کیے ہیں اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت میں رہتے ہوئے ہم نے ایک بلین درخت لگائے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم بننے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ 4 سالوں میں ملک میں 4 بلین درخت لگائے جائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے اور شہروں میں ہونے والی آلودگی خاموش قاتل بن چکی ہے۔ملکی معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن واستحکام تک ہم معاشی ترقی نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ 1980 کی دہائی میں شروع ہونے والے فغان جہاد کے اختتام کے بعد عسکری تنظیمیں ہمارے پاس رہ گئیں جس کے مضر اثرات کا ہمیں سامنا کرنا پڑا، اسلحے اور منشیات کے کلچر نے ہمیں متاثر کیا۔افغانستان کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا پاکستان میں اب کوئی دہشت گردی نہیں ہورہی ، اب مسئلہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کاہے، پاکستان افغانستان میں امن کیلئے سہولت کارکاکردارا داکر رہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کیلئے طالبان اورافغان حکومت کو مل بیٹھنا ہوگا،طالبان اورافغان حکومت مل بیٹھیں گیتومعاملات حل ہوناشروع ہوجائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان ایک بار پھر امریکا کے ساتھ جنگ میں شامل ہوگیا جس کے نتیجے میں ملک میں دوبارہ بدامنی کو فروغ ملا، نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکے دیکھنے میں آئے اور 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوگئے اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرنات ترین ممالک میں ہونے لگا جب کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا100بلین ڈالرکانقصان ہوا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ میں نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شراکت داری کا مخالف تھا، نائن الیون میں پاکستان کاکوئی لینادینانہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہم کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے اور صرف امن کے خواہاں ممالک کے شراکت دارہوں گے، ہم نے سعودی عرب ،ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے جب حکومت سنبھالی توکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ انتہاپرتھا، سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے عوام کے سخت رویوں کاسامنا کرناپڑا، اس سال ہم اقتصادی گروتھ کیلئے کام کررہے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے تحت پاکستان میں زراعت کی پیداوارمیں اضافے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں سرمایہ کاری لا رہے ہیں، روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے پروگرام وضع کیا گیا ہے۔حکومت کی توجہ معدنی وسائل کوبروئے کارلانے پر ہے،عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں، ملک میں کوئلے کے بھی بڑے پیمانے پر ذخائر موجود ہیں، حکومت کی تمام تر توجہ معدنی وسائل کوبروئے کارلانے پر ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تزویراتی لحاظ سے دنیا کے سب سے اہم مقام پر موجود ہے، ایک طرف تیزی سے معاشی قوت بنتا چین ہے تو دوسری طرف معدنی وسائل سے مالا مال وسطی ایشیائی ممالک ہیں جب کہ تمام معاملات بہتر ہوجائیں تو ایران سے بھی تجارت کے بڑے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کوکہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے، جنگ سے ہرطرف تباہی ہی تباہی ہوگی،ڈونلڈٹرمپ نے میرے موقف پر کوئی جواب نہیں دیا، مجھے سمجھ نہیں آتاکہ ممالک تنازعات کاحل فوجی طاقت سے کیوں حل کرتے ہیں۔بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات خوش گوار نہیں ہیں تاہم اگر دونوں ممالک میں تعلقات معمول پر ہوں اور باہمی تجارت ہورہی ہو تو ہم اپنی تزویراتی پوزیشن کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرسکتے ہیں۔

موضوعات: