بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے پر بڑھتا سیاسی دباؤ ، حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے بڑا فیصلہ واپس لے لیا

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سیاسی دباؤ کے بعد حکومت نے عوامی تنقید سے بچنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت پر 5 سے 15 فیصد تک اضافے کو روک دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا دوسرا سیشن شام کو وزارت توانائی کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے پیش کی گئی سمری پر غور کیلئے طلب کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ای سی سی کے صبح اور شام کو ہونے والے دونوں اجلاس کی صدارت کی تھی۔وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے متعلقہ افسران گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے نوٹی فکیشن کو آگے بڑھانے کیلئے تیار بیٹھے تھے تاہم انہیں 8 بجے کے قریب پیغام بھیجا گیا کہ ای سی سی نے گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے پر دباؤ کے باعث انکار کردیا ۔ذرائع کے مطابق اوگرا کو پیٹرولیم/کابینہ ڈویژن کی جانب سے خط جاری کیا جائے گا جس میں چند روز کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کا کہا جائے گا تاکہ عوامی دباؤ کم کیا جاسکے۔نجی ٹی وی کے مطابق سمری میں کہا گیا تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ اوگرا قوانین کے تحت وفاقی حکومت کو سرکاری جریدے میں نوٹی فکیشن کے لیے 40 روز کے اندر کیٹیگری کے حساب سے گیس کی قیمت کی تجویز دینا ضروری ہے جو 20 جنوری 2020 ہے۔سمری کے تحت پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا کی تجاویز تبدیل کرتے ہوئے غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گیس کی قیمتوں میں پیش کردہ قیمتوں سے کمی کی تھی تاہم سمری میں مقامی صارفین کے لیے میٹر کے کرائے میں 400 فیصد، 20 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ میٹر کا کرایہ آخری مرتبہ 1997 میں طے کیا گیا تھا۔سمری میں کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے قیمتوں میں 5 فیصد اضافہم بجلی کے پلانٹس کے لیے 12 فیصد، صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے 15 فیصد قیمتیں بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ اوگرا نے 11 دسمبر 2019 کو سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے 27 کروڑ 42 لاکھ روپے اور سوئی سادرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے لیے 28 کروڑ 29 لاکھ روپے مالی ضروریات طے کی تھیں۔پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ اوگرا کی تجاویز پر جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف کیٹگریز پر نظر ثانی کی جارہی ہے اور ریگولیٹر کی جانب سے طے کی گئیں مالی ضروریات کا تحفظ کی کوشش کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…