جس شخص نے ساری زندگی چندہ جمع کیا ہو وہ کیا معیشت کو کنٹرول کریگا؟ احسن اقبال نے’ ’اقوام متحدہ‘‘ سے اہم مطالبہ کردیا

  پیر‬‮ 20 جنوری‬‮ 2020  |  13:57

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت نے نارووال سپورٹس سٹی کیس میں نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعامسترد کرتے ہوئے سابق وزیر احسن اقبال کو جو ڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔پیر کونارووال اسپورٹس کمپلیکس اسکینڈل میں نیب نے احسن اقبال کو جسمانی ریمانڈ مکمل پر احتساب عدالت میں پیش کیا ۔دور ان سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لیا ہے ، گواہوں کے بیانات قلمبند کئے ہیں، کچھ بنک ریکارڈ مل چکا ہے جبکہ بعض بنکوں سے ریکارڈ ملنا ہے۔نیب پراسیکوٹر نے کہاکہ نو اضلاع میں سے بعض سے جائیداد کا ریکارڈ مل چکا


ہے۔عدالت نے استفسار کیاکہ 28 دن کا جسمانی ریمانڈ ہوگیا، کیا 90 روزہ ریمانڈ لیں گے ؟ ۔ نیب نے کہا کہ احسن اقبال کو 23 دسمبر کو گرفتار کیا، تحقیقات جاری ہیں،احسن اقبال کی گرفتاری کے بعد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے۔ دور ان سماعت نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے احسن اقبال کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا ۔میڈیا سے با ت چیت کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ جس شخص نے ساری زندگی چندہ جمع کیا ہو وہ کیا معیشت کو کنٹرول کریگا،ایسے شخص کا کیا وژن ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ آٹا 70 روپے کلو بھی نہیں مل رہا، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔احسن اقبال نے کہاکہ لنگر خانہ حکومت نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا، لنگر خانہ حکومت نے بڑے بڑے دعوے کیے نوجوان نسل کو گالیاں سیکھائی۔ انہوںنے کہاکہ نوجوان نسل کو نوکریوں کے لارے دئیے،نوجوان نسل ڈگریاں ہاتھ میں اٹھائے گھوم رہی ہے روزگار ختم کر دیا ہے۔احسن اقبال نے کہاکہ یو این سے مطالبہ کرتا ہوں اس لیڈر کو فنڈ ریزنگ کی کسی پوسٹ پر لگا دیں، اس لنگرخانہ حکومت سے ہماری جان چھڑوادیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎