جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

نیب ترمیمی آر ڈیننس مشکل فیصلہ تھا،نیب کے چیئرمین کو کیا سمجھایا گیا؟ اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر کیا کام کیا؟ عمران خان کھل کر بول پڑے

datetime 2  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترمیمی آرڈیننس کو مشکل فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے سے چلنا ہوتا ہے، اپوزیشن نے آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا،ٹیکس کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دائرے کار میں آتا ہے جس میں نیب کا عمل دخل نہیں بنتا،2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا اور ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے،

معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کوبہترکرنا ہوگا۔ جمعرات کو سول سروس سرونٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ نیب کے چیئرمین کو سمجھایا گیا کہ نیب کا مینڈیٹ کرپشن کیسز کو پکڑنا ہوتا ہے اور عالمی سطح پر کریشن کی تعریف صرف اور صرف پبلک آفس کا ناجائز اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال ہے۔عمران خان نے کہا کہ نیب کے خوف سے ترقیاتی منصوبوں میں بیوروکریسی کا کردار محدود ہوگیا تھا تاہم نیب میں ترمیم کے ذریعے بیوروکریسی کو ضابطے کی غلطیوں پرنیب کے شکنجے سے بچانا مقصود تھا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ٹیکس کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرے کار میں آتا ہے جس میں نیب کا عمل دخل نہیں بنتا۔تاجر برادری سے متعلق عمران خان نے کہا کہ تاجر برادری کسی بھی صورت پبلک آفس کو ہولڈ نہیں کرتی، جب وہ کسی پبلک آفس کے ساتھ مل کر اس سے فائدہ اٹھائے تب نیب انہیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملکی قرضوں سے متعلق بتایا کہ ملک میں اس وقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ 2008 کے بعد ملک پر 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا اور ملکی آمدن کا آدھا حصہ قرضوں پر سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پیسہ اس وقت آئیگا جب صنعتیں چلیں گی اور معاشی استحکام کے لیے گورننس کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں پیسہ اس وقت آئے گا جب صنعتیں چلیں گی، ٹیکس کیسز ایف بی آر کے ہیں، کاروباری معاملات میں نیب کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس پڑھے بغیر واویلا مچایا۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…