جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اغوا کیس کا ڈراپ سین، لاپتہ کرنل (ر) انعام کہاں ہیں ؟سراغ مل گیا

datetime 2  جنوری‬‮  2020 |

راولپنڈی ( آن لائن )وزارت دفاع کے حکام نے راولپنڈی سے اغوا ہونے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو اپنی تحویل میں ہونے کا اعتراف کر لیا۔کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے لاپتہ ہونے سے متعلق کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی۔

دوران سماعت وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ہمارے پاس ہیں، انعام الرحیم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔انعام الرحیم کے وکیل نے کہا کہ وزارت دفاع یا اس کا کوئی ادارہ انعام الرحیم کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔عدالت نے سرکاری نمائندوں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوکل جمعہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ نے کیس کی سماعت کل جمعہ تک ملتوی کر دی۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم لاپتہ افراد سے متعلق کیسوں کی پیروی کر رہے تھے اور انہیں 16 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائشگاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔انعام الرحیم کے صاحبزادے حسنین انعام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ 16 دسمبر کی شب ساڑھے 12 بجے عسکری 14 میں واقع ان کی گھر کی گھنٹی بجی اور جب انہوں نے دروازہ کھولا تو سیاہ لباس میں ملبوس 8 سے 10 مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے۔حسنین انعام کے مطابق یہ افراد والد کو اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ہمراہ گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے اور انہیں دھمکی بھی دی کہ اگر کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی گمشدگی کو رپورٹ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…