جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ہم آج بھی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں، آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی، توسیع اور نئی تعیناتی بے معنی ہے، آئین وزیراعظم کو ایکسٹینشن کا کوئی اختیار نہیں دیتا، تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پاس کیا کیا آپشن ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

پاکستان میں پچھلے 48 سال سے سال کا اختتام انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ ہوتا ہے، 16دسمبر 1971ء کو پاکستان دو حصوں میں تقسیم گیا تھا‘ قوم ہر 16 دسمبر کو اس تقسیم کو یاد کرتی ہے اور کف افسوس ملتی ہے‘ پچھلے پانچ سال سے اس افسوس میں اے پی ایس پشاور کے 149 بے گناہوں کا خون بھی شامل ہو گیا،

ان ایک سو انچاس لوگوں میں 132 بچے تھے، آج چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان دونوں سانحوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا، یہ دونوں پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں، یہ دونوں واقعات غفلت، غیر سنجیدگی اور حقائق کو تسلیم نہ کرنے جیسی حماقتوں کا نتیجہ ہیں، ہم اگر ان دونوں واقعات سے سنبھل جاتے تو شاید ہم آج جیسے نہ ہوتے لیکن افسوس ہم سوگ منانے کے باوجود سنبھل نہیں سکے، آپ دیکھ لیجیے حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سانحہ کے 29 برس بعد منظر عام پر آئی اور یہ بھی پاکستان سے پہلے انڈیا میں چھپی تھی اور ہم نے پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک سانحہ اے پی ایس کی رپورٹ بھی جاری نہیں کی، کیا یہ حقیقت یہ ثابت نہیں کرتی ہم آج بھی تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم آخر کب سنبھلیں گے‘ ہم آخر کب سیکھیں گے، سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ اگر چھ ماہ میں قانون سازی نہیں کرتی تو جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائر سمجھے جائیں گے، جنرل باجودہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی وزارت دفاع کی سمریوں کی کوئی حیثیت نہیں، صدر، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی جانب سے دوبارہ تعیناتی، توسیع اور نئی تعیناتی بے معنی ہے، آئین وزیراعظم کو ایکسٹینشن کا کوئی اختیار نہیں دیتا، تفصیلی فیصلے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پاس کیا کیا آپشن ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…