جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

علی محمد خان اور مریم اور نگزیب کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ سپیکر صاحب انہیں تمیز سکھائیں، اس خاتون کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے، مریم اور نگزیب برس پڑیں ، اسپیکر سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں وزیر مملکت علی محمد خان اور مریم اورنگزیب کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔جمعہ کو اجلاس کے دور ان (ن)لیگ کی رکن اسمبلی مریم اور نگزیب نے کہاکہ علی محمد خان ایوان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہ لیں، انہوں نے جو بھی جوابات دیئے سارے جھوٹ تھے۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ ان سے جو سوال پوچھا جاتا ہے اس کا جواب ایوان میں نہیں دیتے۔

اسپیکر نے تنبیہ کی کہ حکومت اور اپوزیشن اراکین سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ کریں ۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ وقفہ سوالات میں صرف سوالات پر ہی فوکس رکھیں۔عاصمہ حدید نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ مریم اورنگزیب سوال کم اور شور زیادہ کرتی ہیں۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ اسپیکر صاحب انہیں تمیز سکھائیں، اس خاتون کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب اور عاصمہ حدید میں تلخ کلامی ہوئی ۔مریم اورنگزیب نے اسپیکر کو غصے سے جواب دیا کہ آپ حکومتی وزیر کو تمیز سکھائیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومتی وزیر مجھ سے ایوان میں بد تہذیبی کریں، حکومتی وزیر کوکوئی حق نہیں کہ ایک رکن سے بد تہذیبی کرے، یہ ہر جگہ کنٹینر والی گفتگو نہیں کر سکتے۔مریم اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں پاکستان کے درجے میں تنزلی آئی ہے۔اس پر علی محمد خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی مریم اورنگزیب کے دور میں خسارے میں تھا، پی ٹی آئی کے دور میں سرکاری ٹی وی کی 350 ملین کی بچت ہوئی اور مسلم لیگ ن کے دور میں 30 صحافی شہید ہوئے جب کہ ہمارے دور میں صرف 3 صحافی شہید ہوئے جو نہیں ہونے چاہیے تھے۔مریم اورنگزیب نے اجلاس میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت بتائے گی کہ

آر ٹی آئی قانون کے تحت جو کمیشن بننا تھا اس کا کیا بنا؟غلام سرور خان نے بتایا کہ پی آئی اے کی غیر ملکی پراپرٹی کی مالیت 78ارب 30 کروڑ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سب سے اہم پراپرٹی روز ویلٹ ہوٹل نیویارک ہے ۔وجیہہ اکرم نے کہاکہ اندرون ملک 1203 طلباء نے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے،ایچ ای سی کی جانب سے مقررہ معیار کے مطابق ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تکمیل کی مدت تین سے

آٹھ سال ہے ۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخ) بل 2019ء پر رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں عطاء اللہ نے عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخ) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…