جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

علی محمد خان اور مریم اور نگزیب کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ سپیکر صاحب انہیں تمیز سکھائیں، اس خاتون کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے، مریم اور نگزیب برس پڑیں ، اسپیکر سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں وزیر مملکت علی محمد خان اور مریم اورنگزیب کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔جمعہ کو اجلاس کے دور ان (ن)لیگ کی رکن اسمبلی مریم اور نگزیب نے کہاکہ علی محمد خان ایوان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہ لیں، انہوں نے جو بھی جوابات دیئے سارے جھوٹ تھے۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ ان سے جو سوال پوچھا جاتا ہے اس کا جواب ایوان میں نہیں دیتے۔

اسپیکر نے تنبیہ کی کہ حکومت اور اپوزیشن اراکین سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہ کریں ۔ اسپیکر نے ہدایت کی کہ وقفہ سوالات میں صرف سوالات پر ہی فوکس رکھیں۔عاصمہ حدید نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ مریم اورنگزیب سوال کم اور شور زیادہ کرتی ہیں۔ مریم اور نگزیب نے کہاکہ اسپیکر صاحب انہیں تمیز سکھائیں، اس خاتون کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب اور عاصمہ حدید میں تلخ کلامی ہوئی ۔مریم اورنگزیب نے اسپیکر کو غصے سے جواب دیا کہ آپ حکومتی وزیر کو تمیز سکھائیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومتی وزیر مجھ سے ایوان میں بد تہذیبی کریں، حکومتی وزیر کوکوئی حق نہیں کہ ایک رکن سے بد تہذیبی کرے، یہ ہر جگہ کنٹینر والی گفتگو نہیں کر سکتے۔مریم اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں پاکستان کے درجے میں تنزلی آئی ہے۔اس پر علی محمد خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی مریم اورنگزیب کے دور میں خسارے میں تھا، پی ٹی آئی کے دور میں سرکاری ٹی وی کی 350 ملین کی بچت ہوئی اور مسلم لیگ ن کے دور میں 30 صحافی شہید ہوئے جب کہ ہمارے دور میں صرف 3 صحافی شہید ہوئے جو نہیں ہونے چاہیے تھے۔مریم اورنگزیب نے اجلاس میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت بتائے گی کہ

آر ٹی آئی قانون کے تحت جو کمیشن بننا تھا اس کا کیا بنا؟غلام سرور خان نے بتایا کہ پی آئی اے کی غیر ملکی پراپرٹی کی مالیت 78ارب 30 کروڑ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سب سے اہم پراپرٹی روز ویلٹ ہوٹل نیویارک ہے ۔وجیہہ اکرم نے کہاکہ اندرون ملک 1203 طلباء نے پی ایچ ڈی مکمل کی ہے،ایچ ای سی کی جانب سے مقررہ معیار کے مطابق ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تکمیل کی مدت تین سے

آٹھ سال ہے ۔اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخ) بل 2019ء پر رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں عطاء اللہ نے عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخ) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…