جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ہم نے آج جانوروں کو بھی شرمندہ کر دیا، ڈاکٹروں نے سفید کوٹ میں وکیلوں کو طیش دلایا، وکیلوں نے کالے کوٹ میں ہسپتال پر حملہ کیا،ملک میں کیا ہو رہا ہے؟مریضوں کے آکسیجن کے ماسک تک اتار دیے گئے، اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ قوم کو اس دلدل سے نکالا کیسے جا سکتا ہے؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 11  دسمبر‬‮  2019 |

آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا‘ دنیا کے کسی بھی معاشرے کے کسی بھی ملک میں تین مقدس ترین پیشے اور ایک مقدس ترین جگہ ہوتی ہے‘ وکیل قانون دان کہلاتے ہیں‘ یہ بے گناہوں کو انصاف دلاتے ہیں‘ ڈاکٹر مسیحا کہلاتے ہیں‘

یہ دکھی انسانیت کی جلتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں اور پولیس بنائی ہی عام شہریوں کے تحفظ کے لیے جاتی ہے اور ہسپتالوں میں درد اور بیماری کا علاج ہوتا ہے‘ یہ جنگوں میں بھی محفوظ رہتے ہیں لیکن آج قانون دانوں کے ہاتھوں دل کے ہسپتال کا جو حشر ہوا ہمیں من حیث القوم آج خود کو قوم‘ خود کو معاشرہ اور خود کو انسان کہلانا بند کر دینا چاہیے‘ ہمیں آج سے خود کو جانور‘ خود کو درندہ ڈکلیئر کر دینا چاہیے بلکہ رکیے جانوروں میں بھی تھوڑی سی حیاء تھوڑا سا احساس ہوتا ہے، یہ دوسرے جانور کو تڑپا کر نہیں مارتے لیکن ہم نے تو آج جانوروں کو بھی شرمندہ کر دیا، ڈاکٹروں نے سفید کوٹ میں وکیلوں کو طیش دلایا، وکیلوں نے کالے کوٹ میں ہسپتال پر حملہ کیا، مشینری تباہ کر دی‘ آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر تک روند ڈالا اور پولیس تماشا دیکھتی رہی اور آخر میں فیاض الحسن چوہان نے اس بربریت میں بھی سیاسی مخالفت تلاش کر لی‘ یہ اس ملک میں ہوکیا رہا ہے؟ کیا یہاں سٹیٹ اور رٹ آف دی سٹیٹ دونوں ختم ہو چکی ہیں‘ کیا ہم عدم برداشت کی اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جہاں انسان انسانیت کے شرف ہی سے محروم ہو جاتے ہیں‘ آج تین مریض جان سے چلے گئے‘مریضوں کے آکسیجن کے ماسک تک اتار دیے گئے۔ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ قوم کو اس دلدل سے نکالا کیسے جا سکتا ہے اور وکلاء کو گرفتار کون کرے گا اور سزا کون دے گا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…