اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا700ارب کا قرضہ لینے کی خاطر پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ گروی رکھوانے کا فیصلہ

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قرض لینے کے لئے ایئرپورٹ گروی رکھوانے کی اجازت لی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار روٴف کلاسرا نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر خزانہ نے مہنگے ترین قرض لئے تھے، اسحاق کے دور میں پی ٹی وی سمیت دیگر قیمتی ادارے کو گروی رکھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔تاہم تحریک انصاف نے اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایااور ہمیشہ گروی رکھوانے کی مخالفت کی ۔ روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا حکومت کراچی ایئر پورٹ کو گروی رکھوا کر 600 سے 700 ارب روپے قرض لینے جار ہی ہے۔ جس پر آج ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں بحث ہوگی ۔روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ قرض تین بینکوں سے لیا جائے گا۔جس میں دبئی اسلامک بینک، الفلاح بینک سمیت میزان بینک شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران معیشت کو اچھا تو دکھا رہے ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔ ہم نے سودکو الگ الگ نا م دیئے ہیں۔ حکومت بھی قرض پر سود دے گی۔ عمران خان پہلی بار کسی ادارے کو گروی رکھوا کر قرض لینے جار ہی ہے ۔ روٴف کلاسرا نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمرا ن خان حکومت اپنے نظریہ سے ہٹ کر اسحاق ڈا ر کی پالیسی پر چل پڑی ہے۔ابھی تو شروعات ہے تاہم معلوم نہیں آنے والے وقت میں کتنے قرض لئے جائیں گے۔ ماضی پر عمران خان کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو شاید دبائوکی وجہ سے قرض لینا پڑ رہا ہے تا ہم خسارے کے باعث قرض لینا ضروری ہو چکا ہےجو کہ عمران خان کی اپنی پالیسی کے ہی خلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…