حکومت کا700ارب کا قرضہ لینے کی خاطر پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ گروی رکھوانے کا فیصلہ

  منگل‬‮ 10 دسمبر‬‮ 2019  |  12:31

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قرض لینے کے لئے ایئرپورٹ گروی رکھوانے کی اجازت لی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار روٴف کلاسرا نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر خزانہ نے مہنگے ترین قرض لئے تھے، اسحاق کے دور میں پی ٹی وی سمیت دیگر قیمتی ادارے کو گروی رکھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔تاہم تحریک انصاف نے اس معاملے پر مسلم لیگ ن کے اقدامات کو تنقید کا


نشانہ بنایااور ہمیشہ گروی رکھوانے کی مخالفت کی ۔ روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا حکومت کراچی ایئر پورٹ کو گروی رکھوا کر 600 سے 700 ارب روپے قرض لینے جار ہی ہے۔ جس پر آج ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں بحث ہوگی ۔روٴف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ قرض تین بینکوں سے لیا جائے گا۔جس میں دبئی اسلامک بینک، الفلاح بینک سمیت میزان بینک شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران معیشت کو اچھا تو دکھا رہے ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہیں۔ ہم نے سودکو الگ الگ نا م دیئے ہیں۔ حکومت بھی قرض پر سود دے گی۔ عمران خان پہلی بار کسی ادارے کو گروی رکھوا کر قرض لینے جار ہی ہے ۔ روٴف کلاسرا نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عمرا ن خان حکومت اپنے نظریہ سے ہٹ کر اسحاق ڈا ر کی پالیسی پر چل پڑی ہے۔ابھی تو شروعات ہے تاہم معلوم نہیں آنے والے وقت میں کتنے قرض لئے جائیں گے۔ ماضی پر عمران خان کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو شاید دبائوکی وجہ سے قرض لینا پڑ رہا ہے تا ہم خسارے کے باعث قرض لینا ضروری ہو چکا ہےجو کہ عمران خان کی اپنی پالیسی کے ہی خلاف ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎