جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

حکومت کے پاس آرمی ایکٹ اور آئین میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لیے ترمیم کے لیے صرف چھ ماہ ہیں‘ کیایہ ترمیم اپوزیشن کے بغیر ہوسکتی ہے؟ اگر حکومت واقعی یہ ترمیم چاہتی ہے تو پھر اسے کیا کرنا ہوگا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

ہماری حکومت پچھلے ایک سال سے بڑے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتی آ رہی ہے ملک کی تاریخ میں پہلی بار سول اور ملٹری دونوں ایک پیج پر ہیں‘یہ دعویٰ لوگوں کو شک میں مبتلا کر دیتا تھا لیکن آج آسٹریلیا میں ہماری کرکٹ ٹیم کی شان دار شکست کے بعد یہ ثابت ہو گیا صرف سول اور ملٹری ایک پیج پر نہیں ہیں بلکہ اب ملک کے سارے ادارے ایک صفحے پر اکٹھے ہو چکے ہیں‘

آپ الیکشن کمیشن کو دیکھ لیجیے‘ آپ وزارت خزانہ‘ وزارت خارجہ‘ وزارت قانون اور وزارت ریلوے کو دیکھ لیجیے اور آپ سٹاک ایکسچینج‘ انڈسٹری‘ سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو دیکھ لیجیے‘ آپ کو ملک کے سارے ادارے اتنے ہی ایک پیج پر دکھائی دیں گے جتنی آج ہماری کرکٹ ٹیم نظر آئی‘ ہم نے آسٹریلیا میں مسلسل تیرہواں ٹیسٹ ہار کر ثابت کر دیا ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں اور یہ کچھ اس وزیراعظم کے دور میں ہو رہا ہے جو کرکٹ کے ورلڈ چیمپیئن تھے لہٰذا لوگ آج کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں جو عمران خان کرکٹ ٹیم ٹھیک نہیں کر سکتے وہ وزارت خزانہ‘ وزارت خارجہ اور فروغ نسیم کی وزارت قانون کیسے ٹھیک کریں گے‘ چلیں یہ ادارے ٹھیک ہوں یا نہ ہوں لیکن ہم کم از کم حکومت کو اتنی داد تو دے سکتے ہیں اس نے تمام اداروں کو ایک پیج پر اکٹھا کر دیا اور وہ پیج ہے بحران‘ وہ ہے کنفیوژن‘ہمیں انہیں یہ داد ضرور دینی ہو گی، حکومت کے پاس آرمی ایکٹ اور آئین میں آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے لیے ترمیم کے لیے صرف چھ ماہ ہیں‘ یہ ترمیم اپوزیشن کے بغیر ممکن نہیں اور اگر حکومت واقعی یہ ترمیم چاہتی ہے تو پھر اسے اپوزیشن کے ساتھ گیو اینڈ ٹیک کرنا پڑے گا‘ پھر نواز شریف اور آصف علی زرداری کا احتساب جاری نہیں رہ سکے گا‘کیا حکومت اس کے لیے تیار ہے‘ اس کا فیصلہ آصف علی زرداری کی درخواست کرے گی‘زرداری صاحب کل یہ درخواست جمع کرائیں گے، دوسرا کیا وزیراعظم بحرانوں سے نبٹنے کے لیے بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…