عمران خان نے36سال میں صرف46لاکھ ٹیکس دیا ، وزیراعظم نے خود بھی اپنے بچوں اور سابقہ بیویوں کے بینک اکاؤنٹس اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں،حیرت انگیز انکشافات

  بدھ‬‮ 20 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  10:58

اسلام آباد(اے این این ) وزیراعظم عمران خان نے سنہ 1981 سے سنہ 2017 تک مجموعی طور پر 46 لاکھ 92 ہزار روپے کے لگ بھگ ٹیکس جمع کرایا جب کہ اس دوران کچھ سالوں تک انہیں ٹیکس سے استثنی بھی حاصل رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے اب تک کسی ایک سال میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس 18 لاکھ 83 ہزار 33 روپے سنہ2010 میں ادا کیا جب کہ اسی کے اگلے سال یعنی 2011 میں انہوں نے 5 لاکھ 62 ہزار 554 روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔ان برسوں کے دوران کچھ سال انہوں نے صرف کچھ سو روپے


ٹیکس بھی جمع کرایا۔'جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے وزیراعظم سے زیادہ ٹیکس دیا'۔جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل بابر ستار نے گزشتہ روز عدالت میں کچھ سوالات اٹھاتے ہوئے یہ بتایا کہ ان کے موکل کی اہلیہ نے وزیراعظم عمران خان سے بھی زیادہ ٹیکس دیا۔انہوں نے سال 2017 کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے اس سال صرف ایک لاکھ 3 ہزار 7 سو 63 روپے ٹیکس ادا کیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایسا شخص جو خود بہت کم ٹیکس ادا کرتا ہو وہ دوسروں پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس معاملے پر ے تحقیق کی اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس نظام میں رجسٹریشن کے بعد اب تک ہر سال کتنا کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔یاد رہے کہ ایسا ہی سوال جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے اپنے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس پر صدر مملکت کو لکھے گئے اپنے خط میں بھی اٹھایا تھا۔ نجی ٹی وی نے گزشتہ 25 سال کے ٹیکس ریکارڈ کی محتاط طریقے سے جانچ کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیراعظم نے خود بھی اپنے بچوں اور سابقہ بیویوں کے بینک اکاؤنٹس اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات (بشمول ان سالوں کے جب وہ شادی شدہ اور ان کے ساتھ رہ رہے تھے)ظاہر نہیں کیں۔عمران خان نے 21 جون 1995 کو برطانوی خاتون جمائمہ گولڈ اسمتھ سے شادی کی تھی لیکن 22 جون 2004 میں ان میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے سنہ 6 جنوری 2015 کو ریحام خان سے دوسری شادی کا اعلان کیا تھا لیکن صرف چند ہی ماہ بعد 30 اکتوبر 2015 میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔وزیراعظم عمران خان نے 18 فروری 2018 کو اپنی موجود اہلیہ بشری مانیکا سے تیسری شادی کا اعلان کیا تھا۔درجہ ذیل تفصیلات یہ بتاتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے سنہ 1981 سے سنہ 2017 تک ہر سال کتنا ٹیکس ادا کیا۔ سال 1981-82، 1, 006 روپے۔سال 1982-83میں 4836روپے ٹیکس دیا۔1983-84میں 48600روپے ٹیکس ادا کیا۔ سال1984-85میں 2ہزار 400روپے ۔1985-86میں 533روپے ٹیکس دیا۔1986-87میں 9ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 1987-88میں 40ہزار 600روپے ۔1988-89میں چار ہزار 735روپے ٹیکس دیا۔سال 1989-90میں 98ہزار 150روپے ٹیکس دیا۔ سال1990-91 میں دو لاکھ28ہزار 700روپے ۔ سال 1991-92میں 38ہزار 818روپے۔ سال 1992-93میں 68ہزار 58روپے ۔سال 1993-94 میں 3, 857 روپے۔سال 1994-95میں 2, 805 روپے۔عمران خان کو سنہ 97-1996 سے سنہ 02-2001تک انہیں ٹیکس استثنی حاصل تھا۔اسی طرح سال 2002-2003میں 32ہزار 390روپے ۔سال 2003میں 17ہزار چار سو 86 روپے ۔سال 2004میں 427, 947 روپے۔سال 2005 میں 21ہزار 337روپے ۔سال 2006میں 59, 609 روپے ۔سال 2007میں 30, 068 روپے ۔سال 2008میں عمران خان نے 105, 415 روپے ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح سال2009میں 90, 421 روپے ٹیکس ادا کیا ۔سال 2010میں 1, 883, 033 روپے ٹیکس ادا کیا۔سال 2011میں 562, 554 روپے ٹیکس ادا کیا ۔سال 2012میں عمران خان نے 267, 440،سال 2013میں 194, 936 روپے،سال 2014میں 108, 547 روپے ۔سال 2015میں 76, 244اور سال 2016میں 159, 609 روہے ٹیکس اداکیا۔عمران خان نے سال 2017میں 103, 763 روپے ٹیکس ادا کیا۔1981 سے 2017 تک عمران خان نے مجموعی طور پر 46 لاکھ 92 ہزار 897 روپے ٹیکس ادا کیا۔

موضوعات:

loading...