چینی باشندوں پر مشتمل انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ سے دوران تفتیش اہم انکشافات

  جمعرات‬‮ 14 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  6:07

کراچی(این این آئی)چینی باشندوں پر مشتمل انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ سے دوران تفتیش اہم انکشافات سامنے آ نے پر ایف آ ئی اے نے پاکستان کی ریڈ بک میں شامل 100انسانی اسمگلر زکیخلاف قانونی کاروائیاں تیز کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ گذشتہ کئی ماہ میں مذکورہ عناصر کی گرفتاریوں میں ناکامی کے باعث ملز مان کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیاآ ئندہ چند روزمیں تمام تر ملز مان کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کو ضبط کیا جائے گا جبکہ قریبی عزیز و اقارب کو بھی شامل تفتیش


کیا جا ئے  گا،حساس اداروں کی جانب سے صوبوں سے نقل مکانی کرنے والے پاکستانی انسانی اسمگلرز کی فہرست ایف آ ئی اے کے خصوصی سیل کو ارسال کر دی گئی پاکستان میں دوسالوں میں 15ہزار سے زائد انسانی اسمگلنگ کے واقعات ذرائع کے مطابق 2019کے آغاز پر ایف آ ئی اے کی جانب انسانی اسمگلرز کی ریڈ بک کا اجرا کیا گیا تھا جس میں 100سے زائد ملز مان کا نام تصویروں اور شناختی کارڈ کے ساتھ درج کیا گیا تھا جس میں پنجاب زون 1کے 17پنجاب زون 2کے 26،اسلام آ باد کے 31،سندھ کے12،بلوچستان کے 2اور بیرون ملک فرار ہونے والے 12مطلوب اسمگلرز شامل ہیں جن میں نادیہ تنویز ولدیت تنویر احمد،تہوار عباس ولدیت محمد عبداللہ،اظہراحمد ولدیت نثار احمد،عمران افضل ولدیت محمد افضل،محمد آصف ولدیت محمد اسحاق،عبد الطیف سولنگی ولدیت نبی بخش،آزاد خان ولدیت شیر محمد،شکیل احمد ولدیت محمد یار،ساجد عزیز ولدیت عبد العزیز،ماجد علی عباسی ولدیت ساجد علی عباسی ،محمد اکبر ولدیت مختار علی،اعجاز حسین ہاشمی ولدیت میاں امیر سلطان،فیصل ریاض ولدیت ریاض احمد،عامر جاوید ولدیت محمد صدیق،ناصر علی ولدیت اشرف،محمد افضل صادق ولدیت محمد صادق،ذوالفقار علی ولدیت سردار محمد،مظہر عباس ولدیت غلام عباس،کاظم مشتاق ولدیت مشتاق احمد،صباح صادق ولدیت محمد بشیر،ظفر اقبال ولدیت سائی اقبال،عدنان اکبر ولدیت محمد اکبر،مظفر حسین ولدیت غلام صابر،ملک فیصل رسول اعوان ولدیت غلام رسول اعوان ،زاہد محمود ولدیت محمد شیر،راشد حسین رضا ولدیت سید اختر رضا،محمد مختیار ولدیت محمد یونس،محمد یوسف ولدیت عبدالحق،محمد یاسین ولدیت عبد المجید،راشد مسیح ولدیت اقبال مسیح،آفتاب سلیم شیخ ولدیت محمد سلیم،توقیر حیات ولدیت طارق حیات،فریال خالد عباسی ولدیت خالد عباسی و دیگر کا نام ریڈبک میں د رج ہے جن کی گرفتاری پر ایف آ ئی اے کو کسی قسم کی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے پاکستان نے مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر 2018میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے دو نئے قوانین متعارف کراوئے ہیں۔ جس میں ایک انسداد مہاجرین ایکٹ 2018،جبکہ دوسرا انسداد انسانی اسمگلنگ ایکٹ 2018شامل ہیں ان دو قوانین کے علاوہ پاسپورٹ ایکٹ 1974،امیگریشن آرڈیننس 1979،فارنز ایکٹ 1946،انسداد انسانی اسمگلنگ ایکٹ 2002اور دیگر متعلقہ قوانین بھی اس ضمن میں موجود ہیں جس کے باوجود بھی جرم کی کڑی نگرانی کے لیے قائم کردہ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل انسانی اسمگلنگ کی روک تھام میں مسلسل ناکامی سے دو چار شکار ہے تاہم گذشتہ ایک سال کے دورانیے میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث19 مطلوب ملز مان جن میں چینی باشندے بھی شامل ہیں سے دوران تفتیش بچوں اور نو عمر خواتین کواسمگل کرنے سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ نے پر ریڈبک میں شامل 100ملز مان کے خفیہ نیٹ ورک کے ملک بھر میں فعال ہونے کے شواہد سامنے آ ئے ہیں۔ جس کے بعد ایف آ ئی اے کے خصوصی سیل نے فوری طور پر متحرک ہوتے ہوئے ان تمام ملز مان کو قانون کو شکنجے میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے جن کے خلاف تحقیقات کو مسلسل 9ماہ سے سرد خانے کی نذر کیا جا رہا تھا گذشتہ روز حساس اداروں کی جانب سے ایف آ ئی اے کوصوبوں سے نقل مکانی کرکے پسماندہ علاقوں میں روپوشی کی زندگی گزارنے والے ریڈ بک میں شامل ملز مان کی فہرست بھیج دی گئی ہے جس کے تحت آ ئندہ چند روز میں انسانی اسمگلنگ اور ریڈ بک شامل اہم ملز مان کی گرفتاریوں سمیت ملز مان کے بڑے نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کا امکان ہے۔

موضوعات:

loading...