جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

مسجد اللہ کی ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا بابری مسجد کیس کے فیصلے پر مسلم فریق خاموش نہ بیٹھا،بڑا اعلان کردیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(آن لائن) بابری مسجد کیس کے مسلمان فریق سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظر انداز کر دیا۔

ہم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن تحفظات برقرا ر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے کسی کی جیت ہوئی نہ ہی ہار لہذا احتجاج اور مظاہرے نہیں ہونے چاہیں۔مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں نہیں، 5ایکڑ زمین ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہماری شریعت کے مطابق ہم اپنی مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ مسجد اللہ کی ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ا ن کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد ہے۔ جن ثبوتوں کو ہندووں کے حق میں لیا گیا وہی مسلمانوں کے ثبوت مسترد کر دئیے گئے۔وکیل ظفریاب جیلانی نے کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تسلیم کیا کہ نماز ہوئی پھر کیسے نظر انداز کر دیا، ہمارا موقف سمجھا نہیں گیا ہمیں متبادل زمین نہیں چاہیے۔خیال رہے کہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا مسلمانوں کو پانچ ایکٹر متبادل زمین دی جائے اور بابری مسجد کے صحن میں مندر تعمیر ہوگا۔عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ تین ماہ کے اندر متنازعہ زمین ٹرسٹ کے حوالے کی جائے جو مندر تعمیر کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…