پرویز خٹک میرا بھائی ہے ، 2014 کے دھرنے میں جو ٹھمکا انھوں نے لگایا ہم نہیں لگا سکتے، ایوان نعروں سے گونج اٹھا

  جمعہ‬‮ 8 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  9:27

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر شدید گرما گرمی دیکھی گئی ، حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی تقاریر کے دور ان ایوان ایک دوسرے کے مخالف نعروں سے گونج رہا ،مولانا اسعد محمود اور علی امین گنڈا پور کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ،مولانا اسعد محمود نے دوبارہ الیکشن لڑنے کا علی امین گنڈا پور کا چیلنج قبول کرلیا ، اپوزیشن کی جانب سے استعفیٰ دو کے نعرے لگائے گئے ،سپیکر اسد قیصر کی اراکین کو خاموش رہنے کی تنبیہ کرتے رہے ۔ جمعہ کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت


قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان خوب گرما گرم بحث ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔پرویز خٹک نے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ اگر آپ لوگ پاکستان کو بہتر بناتے تو عوام آپ کے ساتھ ہوتے، یہ تماشہ اب نہیں چلے گا، یہ ملک اب ایسے نہیں چلے گا، جمہوریت کی بات کرتے ہو تویہاں پارلیمنٹ میں بات کرو، دھرنے پہ بیٹھے رہو لیکن ملک کا نقصان نہ کرنا، مولانا صاحب کہتے ہیں ہم ٹائم پاس کررہے ہیں، اگر ہم ٹائم پاس کریں تو تم لوگ کیا کرسکتے ہو۔پرویز خٹک کی تقریر کے دور ان اپوزیشن اراکین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اس موقع پر پرویز خٹک کہتے رہے کہ یار سن لو !مگر اپوزیشن اراکین کی جانب سے نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہا ۔پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ الیکشن کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور سے الیکشن جیت کر دکھائیں۔۔مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعدمحمود نے حکومت کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پورسیٹ خالی کر کے دوبارہ الیکشن لڑ لیں، میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں، علی امین آپ بھی دو، الیکشن لڑ لیتے ہیں، اب پیچھے نہیں ہٹنا، استعفیٰ کا اعلان کرو، کل ہی الیکشن لڑتے ہیں، عوام کے پاس جاتے ہیں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوجائے گا۔مولانا اسعدمحمود نے کہا کہ آپ ان لوگوں کے کندھوں پر بیٹھ کر آئے ہیں جنھوں نے آئین کو توڑا، وزیر دفاع پرویز خٹک نے دھمکیاں دی ہیں، یہ مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین کا لب و لہجہ نہیں ہوسکتا، پرویز خٹک نے بطور وزیر اعلی ملک کی اکائی کو متنازعہ بنایا، ہم معاہدہ کی پاسداری کررہے ہیں، ہم مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں لیکن لب و لہجہ درست کرو۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا ختم کرو، پولنگ اسٹیشنز میں کیمرے لگا کر الیکشن لڑ لو، میں آج بھی اپنے چیلنج پر قائم ہوں۔ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے بارے میں کہا کہ وہ شخص جو 65 ہزار جعلی ووٹوں سے نااہل ہوا اس نے گزشتہ روز پارلیمان کی توہین کی،جیسے گزشتہ روز قانون سازی ہوئی، سارا ایوان شرمسار ہوا، پرویز خٹک میرا بھائی ہے لیکن 2014 کے دھرنے میں جو ٹھمکا انھوں نے لگایا وہ ہم نہیں لگا سکتے، پرویز الہی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذاکراتی کمیٹی اپوزیشن کے اصل مطالبات وزیراعظم تک نہیں پہنچارہی۔قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور شرابہ کیا۔خواجہ آصف نے حکومتی ارکان سے کہا کہ میں آپ جیسے نوزائیدہ لوگوں کی بات کا برا نہیں مناتا، آپ جیسے لوگ نیازی صاحب کو گالیاں پڑواتے ہیں، گزشتہ روز جناب اسپیکر جو آپ کی کرسی پر بیٹھا تھا اس نے بھی گالیاں پڑوائیں، اسمبلی میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی، اگر ہمیں یہاں سے انصاف نہ ملا تو ساتھ والی عمارت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، ہم اس امپائر کی انگلی کو نہیں دیکھتے جس کو نیازی صاحب دیکھ رہے تھے۔

موضوعات:

loading...