جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے رہبر کمیٹی کے مطالبات مسترد کر دیے، وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ مزید 3 مطالبات کیا تھے؟

datetime 25  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات مسترد کردئیے۔تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیردفاع پرویز خٹک کررہے ہیں جبکہ کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزراء شفقت محمود، نورالحق قادری اور اسد عمر بھی شامل ہیں۔

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہوئی جہاں مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے چاروں مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کے حوالے کیے ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی نے رہبر کمیٹی سے وزیراعظم سے مشاورت کیلئے وقت مانگا۔ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے مطالبات میں وزیراعظم کا استعفیٰ، نئے انتخابات، آئین میں اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی بھی شامل ہیں۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کیا اور رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے دور کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق پرویز خٹک نے رہبر کمیٹی کے 4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے اپنے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے آزادی مارچ کے مقام کے معاملے پر رہبر کمیٹی سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔قبل ازیں مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ بات چیت بہت اچھے ماحول میں ہوئی، کچھ تجاویز اپوزیشن نے دیں اور کچھ حکومت نے دیں۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے اعلیٰ سطح پر مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے استعفے اور دوبارہ انتخابات کے مطالبات مسترد کردئیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…