وفاقی وزارتوں میں ایک کھرب 56 اروب روپے کی بے ضابطگیاں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

  جمعہ‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2019  |  12:31

اسلام آباد(آن لائن) آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے وفاقی وزارتوں اور ڈویڑنز میں آڈٹ سال 19-2018 کے درمیان 1 کھرب 56 ارب کے عوامی فنڈ میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی۔ رپورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں اے جی پی نے خلاف قواعد و ضوابط، اندرونی سطح پر کنٹرول میں کمی، عوامی فنڈز کی زیادہ ادائیگیاں اور غلفتوں کی طویل فہرست کی نشاندہی کی۔آڈٹ کیے گئے فنڈز مالی سال 18-2017 کے تھے جسے آڈٹ سال 19-2018 کہا جاتا ہے۔وفاقی حکومت کے آڈٹ سال 2018 کے اکاؤنٹس میں


آڈٹ اعتراضات گزشتہ سال کے 58 ارب کے مقابلے میں 87 فیصد زیادہ ہے جو عوامی رقم پر مالیاتی کنٹرول میں خرابی ظاہر کرتا ہے۔یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ حکومت نے 2 ارب ڈالر (280 ارب روپے) کے عالمی بانڈز 8.25 فیصد اور 7.25 فیصد شرح سود پر وفاقی کابینہ کے بجائے وزیر اعظم کی منظوری سے بڑھائے جبکہ قواعد کے مطابق اس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جاتی ہے۔اضافی شرح سود کی وجہ سے کرائے گئے آڈٹ میں 280 ارب روپے کی پوری رقم کو بغیر سوالات اٹھائے خلاف ضابطہ اور ناجائز قرار دیا گیا۔اس طرح کی زیادہ تر بڑی رقم پبلک اکاؤنٹس کمٹی کی جانب سے ریگولرائز کی جاتی ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر کرپشن یا غبن شامل ہوتا ہے۔

موضوعات:

loading...