انہوں نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی تھی، یہ خورشید شاہ کو میٹرریڈر کہتے رہے، میٹر ریڈر بھی اللہ کا بندہ ہوتا ہےاپوزیشن کالی پٹیاں کبھی کشمیریوں کیلئے بھی پہن کر آئے، مراد سعید نے بلاول اور ن لیگ کو آڑے ہاتھوں لے لیا‎

  جمعرات‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2019  |  9:57

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کے خلاف بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجاً کرتے ہوئے سپیکر روسٹر م کا گھیرائو کرلیا اور خورشید شاہ کے گرفتاری پر شیم شیم اور حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے ،اپوزیشن ارکان اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان تو تو میں اور تلخ کلامی جبکہ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہاکہ میں کسی کے دبائو میں نہیں آئونگا ۔ اپوزیشن اور حکومت کا کام ایک دوسرے پر الزامات لگانا اور تنقید کر نا ہے ۔ جمعرات کو اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان


سوری کی زیر صدارت ہوا جس میں اپوزیشن ارکان نے خورشیدکی گرفتاری پر بطور احتجاج بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ۔ نکتہ اعتراض پر نوید قمر نے کہاکہ منتخب نمائندوں کے ایوان کا نگہبان اسپیکر ہوتا ہے ،اپوزیشن کی سامنے والی بنچز سے کتنے ارکان اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جو مہنگائی اور دیگر بحران ہیں کیا اپوزیشن کو گرفتار کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہاکہ خورشید شاہ اور میں 31 سال سے منتخب ہوتے آئے ہیں ،اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیر حراست ارکان کو ایوان میں لائیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنی تعداد میں اتنے ارکان گرفتار نہیں ہوئے۔ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہاکہ خورشید شاہ اس ایوان کے سینئر رکن قومی اسمبلی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کیا احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی ہونا ہے، اور کسی کی طرف دیکھا بھی نہیں جارہا ۔ انہوں نے کہاکہ سابق صدر زرداری اور فریال تالپور کو گرفتار کیا گیا ،سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی بیٹی کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ،دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ اب خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیا ،کیا صرف ایک لیٹر کی بنیاد پر معزز ممبران کو گرفتار کیا جائیگا۔ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہاکہ تمام ممبران ہمارے لئے قابل احترام ہیں، پیپلز پارٹی کی جانب سے راجا پرویز اشرف تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں ۔ ڈپٹی اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے ارکا ن کو تنبیہ کی کہ دیگر ارکان اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں، ایوان کی کارروائی چلانے دیں۔راجا پرویز اشرف نے کہاکہ آپ کہتے ہیں سب قابل احترام ہیں لیکن آپ اس ایوان کے کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہیں ،آپ خورشید شاہ کے حوالے سے الزامات کی تفصیلات منگوائیں۔ اگر آپ تفصیلات نہیں منگواتے تو پھر ہم اس ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کرینگے ۔انہوں نے کہاکہ اس ایوان کو تمام اداروں کی ماں کہا جاتا ہے مگر آج یہ سے کمزور تر ادارہ بن چکا ہے ،کیا گزشتہ روز آپ کو محض کسی الزام میں گرفتار کرلیا جائیگا تو یہ درست ہوگا ،خورشید شاہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے انہیں بلایا جائے اور ان سے الزامات بارے پوچھا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ نیب سے تفصیلات طلب کی جائیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایوان خالی ہوجائے گا۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ اس کرسی پر بیٹھ کر میں نے بھی حلف لیا ہے ،میری اس ایوان کے ساتھ وفاداری پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اس ملک میں حکمران اشرافیہ میں واحد سیاسی برادری ہے جو ایک دوسرے سے دشمنی میں سبقت لیتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ دیگر اشرافیہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، صرف سیاستدان ہی ایک دوسرے کی دشمنی میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا فرض ہے کہ اگر کسی ممبر اسمبلی کااستحقاق مجروح ہورہا ہے تو اسکا تحفظ یقینی بنائیں۔ اس ایوان کے وقار کا تحفظ اسی میں ہے کہ خورشید شاہ سمیت سینئر ارکان کے استحقاق کا تحفظ کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ خورشید شاہ وہ شخصیت ہے جس نے اس ایوان کی عزت افزائی میں اضافہ کیا ہے ۔ نہوںنے کہاکہ یہ وقت موجودہ حکمرانوں پر بھی آسکتا ہے،خدانخواستہ پی ٹی آئی پر کڑا وقت آیا تو اس وقت بھی ہم آواز بلند کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی ممبر کا نہیں بلکہ ایوان کی بالادستی کا تحفظ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تمام زیر حراست ارکان کے حقوق کا تحفظ پارٹی سے بالادست ہوکر کرنا ہے ۔ وفاداریاں ہمارے حلف پر بھاری نہیں ہوسکتیں ، ہمیں اسے برقرار رکھنا ہے۔ اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے مراد سعید کو بات کرنے کا موقع دینے پر احتجاج کیا ،وفاقی وزیر مراد سعید نے کہاکہ میں ایوان میں داخل ہوا تو اپوزیشن ارکان نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں ،میں سمجھا کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر بھارت کے خلاف باندھی ہیں ،کبھی سندھو دیش، کبھی سرائیکی دیس تو کبھی پختونستان کی بات کی جاتی ہے ،پورا کشمیر اس ایوان کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 53 سال بعد کشمیر کے حوالے کر بات ہوئی ہے ،آج پاکستان کا بیانیہ دنیا تک پہنچ چکا ہے ،یہی لوگ تھے جو خورشید شاہ کو میٹر ریڈر کہتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ایان علی اور بلاول بھٹو کی پیمنٹس ایک ہی اکاؤنٹس سے جاتی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ یہی ن لیگ والے تھے جو آصف علی زرداری کو گھسیٹنے کی بات کرتے تھے۔انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں ہم نے دیکھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ والے اس ایوان میں بات کرکے ایک دوسرے کے خلاف سچ ہی بولتے تھے۔ مولانا اسعد محمود کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی رکن عاصمہ حدید نے شور شرابہ کیا اس موقع پر عاصمہ حدید اور جے یو آئی ف ارکان کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا ۔ڈپٹی اسپیکر وقفہ سوالات اور اپوزیشن ارکان بات کرنے کا موقع دینے پر بضد رہے اور کہاکہ میں نے اپوزیشن کے پانچ ارکان کو بات کرنے کا موقع دیا ،احسن اقبال، خواجہ آصف اور اپوزیشن کے ارکان اسپیکر روسٹرم پر پہنچ گئے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ ہم پر غداری کا الزام لگایا گیا۔ جواب دینے دیا جائے،آپ مجھے دباؤ میں نہیں لا سکتے۔اپوزیشن ارکان اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان تو تو میں اور تلخ کلامی ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ اپوزیشن اور حکومت کا کام ایک دوسرے پر تنقید کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ ہم یہاں غدار بننے نہیں آئے۔جے یو آئی کے اسعد محمود نے کہاکہ خورشید شاہ کی گرفتاری قابل مذمت ہے ، ایک مضبوط اور بالادست ادارے کے رکن کو اٹھاکر لے جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب کی کارروائیوں سے لگتا ہے پارلیمان کی بجائے نیب بالادست ادارہ ہے ۔ حکومتی بینچز کا رویہ درست کریں کیونکہ ہم اس ایوان میں کسی کے غلام نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں جو خاتون چیخ چیخ کر بول رہی ہیں وہ اسرائیل کو بیت المقدس حوالے کرنے کی بات کررہی تھیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے انہیں تحفظات کے باوجود انہیں بات کرنے دی تاکہ دنیا کے سامنے انکا چہرہ واضح ہوجائے وہ کس کے ایجنٹ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت سیاسی نہیں بلکہ ایوان میں نیب کی ترجمان بنی ہوئی ہے ،پارلیمنٹ سے باہر نیب حکومت کی ترجمان بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی صورتحال پر ہمیں تحفظات ہیں کیونکہ وزیراعظم نے سودا کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے حوالے سے جنگ ہم لڑینگے، سیاسی و سفارتی حمایت بھی کریں گے اور حکومت کو بھی چلتا کریں گے۔ اجلاس کے دور ان اپوزیشن ارکان نے ڈپٹی اسپیکر سے کہاکہ مراد سعید نے ہمیں غدار بنا دیا آپ ہمیں موقع نہیں دے رہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ آپ سینئر ہیں لیکن آپ مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے ،میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں مانوں گا ۔ انہوں نے کہاکہ احسن اقبال صاحب وقفہ سوالات کو چلانے دیں اس کے بعد آپ کو بات کرنے کا موقع دوں گا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں نماز ظہر کا وفقہ کر دیا گیا ۔اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کورم کی نشاندہی اپوزیشن رکن ثمینہ مطلوب نے کی،نشاندھی کے ساتھ اپوزیشن ارکان ایوان سے باہر چلے گئے ۔کورم پورا نہ ہونے کے باعث ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔

موضوعات:

loading...