پاکستان سے بھارت جاکر لڑنے والا پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہوگا، وزیراعظم عمران خان نے کشمیری مسلمانوں کو بڑی یقین دہانی کرا دی

  بدھ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2019  |  18:29

پشاور /طور خم(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک بارپھر واضح کیا ہے کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا آرٹیکل ختم نہیں کرتی تب تک اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی،پاکستان سے جاکر بھارت جاکر لڑنے والا پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہوگا، اقوام متحدہ میں کشمیر کامقدمہ اس طرح پیش کرونگا جو آج تک کسی نے نہیں کیا ہوگا، پاک افغان سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوجائے گا، خطے میں تبدیلی آئی گی،دعا ہے افغانستان میں امن قائم ہو، افغانستان میں امن سے خطہ ترقی کریگا،


امن سے پشاور تجارت کا حب بن جائیگا، طورخم بارڈر سسٹم سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی فائدہ ہوگا،گھوٹکی واقعہ قابل مذمت ہے، پاکستان میں ہندو برادری کے خلاف ہونے والا تشدد ملک کے خلاف سازش ہوگا،مشرف نے جن دونوں لیڈروں کو این آر او دیا وہ آج جیل میں ہیں، ہمیں اس دور کے کیسز پر بلیک میل کیا جارہاہے جو دونوں نے ایک دوسرے پر بنائے۔بدھ کو طورخم سرحد پر نئے ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور مظاہروں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں پیش آنے والا واقعہ اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کی تقریر کو سبوتاژکرنے کی سازش ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تمام اقلیوں کو یہ یقین دہانی کروائی تھی وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور دین اسلام میں بھی اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے ہیں۔بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پر انتہاپسندوں نے قبضہ کرلیا ہے کیونکہ ایسے ذہن کے لوگ ہی کسی علاقے کو اتنے دنوں تک بند کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی آر ایس ایس کی پالیسی ہے جو پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ہے، جبکہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر باور کروایا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا آرٹیکل ختم نہیں کرتی تب تک اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ میں اس طرح کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔ ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو اس وقت کشمیر میں بہانہ چاہیے، وہاں اس نے 9 لاکھ فوج جمع کی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف ہے، جو ان کے ساتھ تھے اب وہ بھی بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے، بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، عالمی فورم پر دہائیوں بعد بات ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور اس کی رہی سہی کسر میں اقوام متحدہ میں پوری کر دوں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے افغان مذاکرات میں رکاوٹ آگئی،افغان امن مذاکرات کی بحالی کی پوری کوشش کریں گے، جبکہ افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ صرف این آر او دے دیں، مشرف نے جن دونوں لیڈروں کو این آر او دیا وہ آج جیل میں ہیں، ہمیں اس دور کے کیسز پر بلیک میل کیا جارہاہے جو دونوں نے ایک دوسرے پر بنائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے جس اپوزیشن کا نظریہ نہ ہو وہاں جمہوریت صحیح معنوں میں چلتی نہیں، اگر آج احتساب نہ کیا تو یہ ملک ہی نہیں چلنے دیں، انہیں ملک کی کوئی فکر نہیں، انہیں صرف این آر او چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے صرف اداروں کو کھلا چھوڑ دیا، جومرضی ہوجائے ہم نے کسی کو این آر او نہیں دینا ہے، انہوں نے بیدردی سے ملک کو لوٹا اس کی وجہ سے ملک میں آج مہنگائی ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے طورخم سرحد کو باقاعدہ طور پر 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی سروس کیلئے کے لیے ٹرمینل کا افتتاح کردیا۔اپنے خطاب میں طورخم سرحد پر 24 گھنٹے سروس پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ خطے میں تبدیلی آئی گی۔وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے وسطیٰ ایشیائی ممالک کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ ان میں کسے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کے خواہشمند ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ دعا ہے افغانستان میں امن قائم ہو، افغانستان میں امن سے خطہ ترقی کرے گا، امن سے پشاور تجارت کا حب بن جائیگا، طورخم بارڈر سسٹم سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی فائدہ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔

موضوعات:

loading...