جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

یورپی پارلیمنٹ میں 12 سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث ، بھارت کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کردیا

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

اسٹراسبرگ،سری نگر(سی پی پی) یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کی صورتحال پر اجلاس منعقد ہوا جس میں بارہ سال بعد مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی۔یورپی یونین کے جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے۔

وزیر یورپی یونین توپرائینن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ پیدا ہوچکا ہے، جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون آج سب سے زیادہ اہم ہے، کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق چاہتے ہیں۔وزیر یورپی یونین ویلا کارمینو نے کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر گفتگو اہم ہے۔ یورپی وزیر مسز ہینا نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ وادی کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، بھارت کے اس اقدام نے وادی کی صورتحال انتہائی خراب کردی، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی نظام مسلسل منقطع ہے۔یورپی وزیر مسز ڈاڈن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس آرہی ہیں، مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے اور موبائل سروس منقطع ہے، بھارت سے کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق آزادی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 70 سال سے تنازع جاری ہے، حق خودارادیت کشمیری عوام کا حق ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں بہتری کے لیے کردار ادا کریں۔دوسری جانب مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کا آج 45 واں روز ہے، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے سنسان پڑے ہیں، گھروں میں قید کشمیری ضروریات زندگی کو ترس گئے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیریوں کی زندگی بدتر ہونے لگی۔ گھروں میں محصور لوگ کھانے پینے کی اشیا کو ترس گئے۔ دکانیں، کاروبار، تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں، چپے چپے پر بھارتی فوج تعینات ہیں۔ کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے اصل صورتحال جاننا مشکل بن گیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صرف شوپیاں کے علاقے سے 2 ہزار کے قریب نوجوانوں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ 5 اگست سے تمام حریت رہنما گھروں اور جیلوں میں بند ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…