جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

”کشمیریوں کے غدار پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے“ امارات اور بحرین کی جانب سے مودی کو ایوارڈ دینے پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آ گیا

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)”کشمیریوں کے غدار پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے“ یہ بات معروف صحافی حامد میر نے اپنے ٹوئٹ میں کہی۔ معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ ”کشمیریوں کے قاتل مودی کو بحرین میں بھی ایوارڈ مل گیاہے ایران کے رہبر علی خامنائی کا شکریہ کہ اس مشکل میں انہوں نے کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی فلسطین اور کشمیر کے ساتھ غداری کرنے والے کبھی پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔“

تمام پاکستانیوں نے بھی مودی کو متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے ایوارڈ دینے پر اپنے شدید ردعمل دیا ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا ہے۔ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچے تھے، یہ کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا اس خلیجی ریاست کا پہلا دورہ تھا۔ بھارتی وزیر اعظم نے امیر بحرین حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور بحرینی ہم منصب شہزادہ خلیفہ بن سلمان الخلیفہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ نریندر مودی کو امیر بحرین حمد بن عیسیٰ الخلیفہ نے ’کنگ حماد آرڈر آف دی رینائسنس‘ کا اعزاز دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دیا گیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بعد برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے اماراتی ولی عہد سے مودی کو اعزاز دینے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی یہ اعزاز بھارتی وزیراعظم کو دیا گیا۔ اس اعزاز پر پاکستانی عوام میں بھی شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس عمل کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ دوسری جانب بحرین میں بھارتی وزیراعظم نے بھارتی کمیونٹی سے خطاب بھی کیا اور ساتھ ہی 200 سالہ قدیم ’شری ناتھ‘ مندر میں پوجا پاٹ کی اور پرساد بھی تقسیم کیا۔ بھارتی وزیراعظم نے مندر کی بحالی کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا جس پر 42 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…