مقبوضہ وادی کشمیرکا محاصرہ مسلسل 20ویں روز بھی جاری 10 ہزار سے زائد گرفتار،،ادویات و خوراک کی شدید قلت،صورتحال خوفناک ہوگئی

  ہفتہ‬‮ 24 اگست‬‮ 2019  |  19:41

سرینگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے لوگوں کو غیر قانونی بھارتی قبضے اورجموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے پوری مقبوضہ وادی میں ہفتہ کو مسلسل  20ویں روز بھی سخت کرفیو اور دیگر پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سخت محاصرے کے باعث کشمیریوں کو اس وقت بچوں کی غذااو رزندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدیدقلت کا سا منا ہے اور مقبوضہ وادی ایک بڑے انسانی المیے کا منظر پیش کررہی ہے۔ لاکھوں لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور جموں


وکشمیر  اسکے باشندوں کیلئے ایک بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔بھارتی انتظامیہ نے پانچ اگست سے جب نریندر مودی کی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا مقبوضہ وادی کشمیرمیں سخت کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف میں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ انتظامیہ نے پانچ اگست سے انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات بھی بند کر کے اطلاعات کی فراہمی کا سلسلہ بھی معطل کر رکھا ہے۔ کرفیواور دیگر پابندیوں کے باعث مقامی اخبارات اس دوران اپنے آن لائن ایڈیشن اپ ڈیٹ نہیں کرپائے جبکہ اکثر اخبارات کی اشاعت بھی بند ہے۔ ادھر سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریباً تمام حریت رہنما گھروں اور جیلوں میں نظر بند ہیں۔سینکڑوں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت  10 ہزار سے زائد کشمیری حراست میں لیے گئے ہیں۔ جیلوں اور تھانوں میں گنجائش کم پڑ گئی ہے اور حراست میں لیے گئے بہت سے افراد کو عارضی حراستی مراکزمیں رکھا گیا ہے۔ عارضی حراستی مرکز کے طور پر استعمال میں لائے جانے والے سرینگر کے ایک ہوٹل کو اب سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ اس ہوٹل میں پچاس کے قریب سیاسی رہنما زیر حراست ہیں۔ادھرمقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بھارتی آلہ کاروں کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیار رہیں جوکشمیریوں کو غلام بنانے اور انکی مذہبی شناخت سمیت ہر چیز چھیننے کیلئے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ جیسی ہندوانتہا پسند تنظیموں اور ہندو توا کی دیگر قوتوں کو مقبوضہ علاقے میں لانے کیلئے اپنے بھارتی آقاؤں سے رابطے کر رہے ہیں۔یہ انتباہ حریت کارکنوں کی طرف سے پوسٹروں اور پمفلٹوں کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔بھارتی آلہ کاروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ حریت کا راستہ اپنائیں اور ہندا توا قوتوں کو کسی طرح کی سہولت فراہم کرنے کی صورت میں انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی حکام نے بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے ایک وفد کو سرینگر ائر پورٹ سے واپس بھیج دیا۔ یہ اقدام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم فرقہ پرست حکومت بھارتی سیاست دانوں کو بھی مقبوضہ علاقے کی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ دریں اثنا ضلع اسلام آباد میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک افسر نے اپنی رہائش گاہ پر سروس رائفل سے خود کشی کر لی۔ اس تازہ واقعے سے جنوری 2007سے مقبوضہ علاقے میں خود کشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر 440ہوگئی ہے۔

موضوعات:

loading...