جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال اضافہ کر دیا‘اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟حکومت نے ایک سال پورا کر لیا‘ یہ سال کیسا تھا؟مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہاہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال اضافہ کر دیا‘ یہ 29نومبر 2019ء کو ریٹائر ہو رہے تھے لیکن ایکسٹینشن کے بعد یہ اب 29 نومبر 2022ء تک پاک فوج کے سربراہ رہیں گے‘

یہ فیصلہ اچھا ہے یا برا ہے۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا تاہم یہ درست ہے سیاسی حکومت اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ بڑی مدت بعد ایک پیج پر آئی‘۔۔ اس پیج کا تقاضا تھا ملک کی دونوں مقتدر شخصیات مزید تین سال تک ساتھ ساتھ چلیں‘ یہ دونوں اب اگر مل کر ملک کو بحرانوں سے نکال لیتے ہیں‘ مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے‘ ملک معاشی لحاظ سے خود مختار ہو جاتا ہے‘ احتساب کا عمل مکمل ہو جاتا ہے‘ تمام سرکاری ادارے فنکشنل ہو جاتے ہیں اور اگر ملک میں امن‘ انصاف اور استحکام آ جاتا ہے تو پھر تاریخ اس فیصلے کو سنہری لفظوں میں لکھے گی‘ اس کے بعد آرمی چیف کا عہدہ خود بخود دو ٹرمز تک وسیع ہو جائے گا لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکا اور ملکی بحرانوں میں اضافہ ہوتا رہا تو حکومت اس فیصلے کے بعد مزید کمزور ہو جائے گی‘ آج کے فیصلے نے عوام کے دل میں آرمی چیف اور عمران خان دونوں کے بارے میں توقعات میں اضافہ کر دیا‘ ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے‘ یہ بوجھ کیسے اتارا جاتا ہے ہمیں اس کے لیے وقت کو وقت دینا ہو گا چناں چہ انتظار کیجیے‘ آرمی چیف کی ایکس ٹینشن کے ساتھ ہی ہمارے ماضی کے دو پروگرامز کے کلپ وائرل ہو گئے‘ ماضی بہرحال ماضی ہوتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اسے قدرت بھی تبدیل نہیں کر سکتی‘ حکومت نے ایک سال پورا کر لیا‘ یہ سال کیسا تھا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…