بھارتی فوج اور کشمیریوں میں باقاعدہ جھڑپیں شروع، دھڑا دھڑ گرفتاریاں، جیلوں میں جگہ کم پڑ گئی، ہزاروں افراد دیگر علاقوں کی جیلوں میں منتقل

  پیر‬‮ 19 اگست‬‮ 2019  |  21:29

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر ایک بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خطے کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت


میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اصل حقائق اس وقت سامنے آئیں گے جب کرفیو اٹھے گا۔ انہوں نے کہاکہ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز بھی کرفیو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور بھارتی سیکورٹی فورسز اور کشمیریوں کے مابین مڈ بھیڑ کی اطلاعات ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے غیر زمہ دارانہ بیان اور ان کے عزائم سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک واضح پیغام آج دنیا کے سامنے ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ کرفیو میں نرمی ہوتے ہی کشمیری مسلمانوں کا ردعمل سامنے آیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی فوج اور کشمیریوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہو گیا ہے، میڈیا ذرائع کا کہناہے کہ کئی علاقوں میں مظاہرین کرفیو توڑ کر گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے بھارت مخالف نعرے بھی لگائے۔ بھارتی فوج سے جھڑپوں میں ایک کشمیری مسلمان شہید ہو گیا ہے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں، دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے ایک شہری دم گھٹنے سے فوت ہوگیا ہے، مظاہروں کے دوران ایک لڑکے نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے اس ماہ کے آغاز میں بھارتی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد سے پورے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 15روز سے جاری سخت کرفیو اور دیگر پابندیوں کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایک مجسٹریٹ نے سرینگر میں فرانسیسی خبر ایجنسی AFPسے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کم سے کم چار ہزار افراد کو گرفتار کیاگیا ہے۔ا نہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں گنجائش ختم ہوجانے کے بعد ان میں سے بیشتر کشمیریوں کو بھارت کی جیلوں میں منتقل کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی طرف سے مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے انہیں پورے مقبوضہ علاقے میں اپنے ساتھی مجسٹریٹوں سے اعدادوں شمار اکٹھے کرنے کیلئے ایک سیٹلائیٹ فون دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے کہاہے کہ اس سے قبل گرفتار کئے گئے افراد کی مجموعی تعداد کے بارے میں کوئی اعدادوشمار موجود نہیں تھے۔ تاہم AFPنے سرینگر میں بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں سمیت بہت سے سرکاری حکام سے گفتگو کی ہے جنہوں نے بہت بڑی تعداد میں گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چھ ہزار کے قریب افراد کا سرینگر میں مختلف مقامات پر طبی معائینہ کرنے کے بعد انہیں نظربندکردیاگیا ہے۔ پہلے انہیں سرینگر سینٹرل جیل اور بعد ازاں ایک فوجی طیارے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے باہر کی جیلوں میں منتقل کردیاگیا ہے۔ ادھر جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں پیر کو مسلسل15 ویں روز بھی کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے اور بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث وادی کشمیر خاص طورپر سرینگر فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سرینگر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کیلئے ویرانی کا منظرپیش کرنے والی سڑکوں اور گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات تاحال معطل ہیں۔ کرفیواور سخت پابندیوں کے نفاذ اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث مقامی اخبارات شائع اور انکے آن لائن ایڈشن اپ ڈیٹ نہیں ہوپارہے ہیں۔ جموں کے پانچ اضلاع میں موبائیل اورا نٹرنیٹ سروسز مختصر عرصے کیلئے بحال کئے جانے کے بعد دوبارہ معطل کر دی گئی ہیں۔ اسلا آباد میں ڈورو کے علاقے شاہ آباد ویری ناگ میں زبردست بھارت مخالف مظاہر ہ کیاگیا۔ مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے بھارتی فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی ہو گئی۔ حریت چیئرمین سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت رہنماء گھروں یا جیلوں میں نظر بند ہیں۔ بھارت نواز سیاست دانوں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، انجینئر عبدالرشید، سجاد لون اور شاہ فیصل سمیت ایک ہزار سے زائد سیاسی رہنما ؤں اور کارکنوں کو گرفتارکیا جاچکا ہے۔ کرفیو او رسخت پابندیوں کے باعث کشمیریوں کو اس وقت بچوں کیلئے دودھ او رزندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سا منا ہے اور علاقے میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔

موضوعات:

loading...