بھارت میں کانگریس کے2 کشمیری رہنما بھی گرفتار، سروے میں عوامی اکثریت نے مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا

  اتوار‬‮ 18 اگست‬‮ 2019  |  9:02

لکھنو،سری  نگر(این این آئی)ایک عوامی سروے میں عوام کی اکثریت نے مودی حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اورکہاہے کہ کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کرنا چاہئیے۔ادھربھارت میں مسیحیوں کے روحانی پیشوا بشپ جوزف ڈی سوزا نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے کشمیریوں کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب مودی حکومت نے کانگریس کے دو کشمیری رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیاہے لکھنو سے کشمیر پر مظاہرے کے لئے جانے سے پہلے سماجی کارکن کو گھر میں نظر بند کر دیا گیاہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا سلسلہ


جاری ہے، کانگریس پارٹی کے ترجمان رویندر شرما کو پریس کانفرنس کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی کے صدر غلام میر کو بھی قابض افواج نے دفتر جاتے ہوئے حراست میں لیاگیا۔لکھنو میں سماجی کارکن سندیپ پانڈے کو اس وقت گھر میں نظر بند کر دیا گیا جب وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف مظاہرے میں شرکت کے لئے جا رہے تھے،انہیں کشمیر کاز پر اٹھانے کے جرم میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار نظر بند کیا گیا۔ایک عوامی سروے میں عوام کی اکثریت نے مودی حکومت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، بھارتی عوام کا کہنا تھا کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کرنا چاہئیے۔بھارت میں مسیحیوں کے روحانی پیشوا بشپ جوزف ڈی سوزا نے دنیا بھر کے مسیحیوں سے کشمیریوں کیلئے دعا کی اپیل کی ہے۔دریں اثنا جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل14ویںروز بھی کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر اور دیگر علاقوں میں سینکڑوں لوگوں نے ہفتے کے روز کرفیواور دیگر پابندیوں کی پرواہ کئے بغیراحتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڑز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ گو انڈیا گو بیک‘‘، ’’ہم کیا چاہتے آزادی ‘‘،’’کشمیریوں کی نسل کشی بند کرو‘‘جیسے نعرے درج تھے۔

موضوعات:

loading...