جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر، 10ہزارسے زائدکشمیریوں نے  کرفیو توڑ  دیا،  بھارتی فورسز   کی  سیدھی فائرنگ،  3 کشمیری شہید،  42سے زائد زخمی،صورتحال تشویشناک

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

سری نگر (آن لائن) بھارتی حکومت کے  غیرقانونی اقدام کیخلاف سری نگر میں 10ہزارکشمیریوں نے  کرفیو توڑ  کر احتجاجی مظاہرہ کیا جسے منتشرکرنے کیلیے بھارتی فورسز نے آنسوگیس اورپیلٹ گنوں سے مظاہرین سیدھی فائرنگ کی جس کے نتیجے 3 کشمیری شہید اور 42سے زائد زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،

پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال سے بڑی تعداد میں کشمیری زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز نے مسافر بس کو بھی نشانہ بنایا،پیلیٹ گن کے چھرے لگنے سے ڈرائیور قابو نہ رکھ سکا اور بس الٹ گئی۔واضح رہے وادی میں کرفیو ساتویں روز میں داخل ہو گیا۔ 24حریت رہنماؤں کو سری نگرسے آگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق  کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔جگہ جگہ بھارتی فورسز نے چوکیاں بنا رکھی ہیں۔کشمیریوں کو مجبوری کے تحت آمد و رفت کے دوران بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں، موبائل، لینڈ لائن، انٹرنیٹ اور مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں۔تعلیمی ادارے، دفاتر اور بازار  بند ہیں اور سڑکوں پر ہْو کا عالم ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی میں تعینات اضافی فوج کو گھر والوں سے رابطہ کرنے کے لیے  3سو موبائل فون مہیا کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں،خار دار تاریں بچھا کر گاڑیوں اور راہگیروں کی نقل و حرکت ناممکن بنا رکھی ہے۔  قابض انتظامیہ نے  کارگل میں بھی دفعہ 144 نافذ کر دی، وہاں بھی،مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں جس کے باعث علاقے  کابیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اخبارات 4اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہو سکے۔یورپی پارلیمنٹ کے کئی ارکان نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کے نام خط میں یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل کیلئے خطے کے تمام ملکوں کے ساتھ روابط  شروع کرے۔انھوں نے دفعہ 370کو منسوخی کرنے کے بھارتی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام اورآزاد جموں وکشمیر میں شہری آبادی پر کلسٹر بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…