بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس ،سپریم کورٹ بار عید کے بعد کیا کرنیوالی ہے؟دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

datetime 3  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہاہے کہ 14جون کو عدالتوں کو تالے لگائیں گے،سڑکوں پر نہیں جائینگے ،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا۔

ججز کے بارے میں فیصلوں کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے ۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خواہش ہے کہ ہم لمحہ با لمحہ قوم کو آگاہ کریں،کوئی یہ نہ کہے کہ اعلان کر کے چھپ گئے۔ انہوں نے کہاکہ میں پیمراکی پابندیوں کی مذمت کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ عدلیہ کو انسانی حقوق پر نوٹس لینا چاہیے کہ پیمرا نے پابندیاں کیوں لگائی؟۔ انہوں نے کہاکہ ریاست اکبر بگٹی کے زخم کو ابھی تک چاٹ رہی ہے،اب ایک بار پھر بلوچستان کے جج کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نا کردہ گناہوں کی سزا نہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ان شقوں کے مجرم اعلی عدلیہ میں دندناتے پھر رہے ہیں،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب آپ سیاست دانوں کو آرٹیکل 62 اور 63 پر نا اہل کر دیتے ہیں،اسی طرح ججوں کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ججوں کے خلاف بھی فیصلہ کرنے کیلئے کوئی تیسرا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ججز کے بارے میں فیصلہ کریں۔

انہوں نے کہاکہ ہم قاضی فائز عیسیٰ کو آپ کے سامنے شکار ہونے کیلئے نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم اکائونٹیبلٹی کے خلاف نہیں ہیں امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چیف جسٹس سمیت تمام ججز کا احترام کرتے ہیں،اب روایتی احتجاج نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اب احتجاج عدالتوں کے اندر ہو گا،ہم عدالتوں کو تالے لگائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اب مجرم سڑکوں پر گھسیٹے جائیں گے،ہم عدالت کے اندر آگ لگائیں گے سڑکوں پر نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم کوئی معافی نہیں مانگیں گے، ہم توہیں عدالت کریں گے ،جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر سیاست کی وہ ہماری لاشوں پر سیاست کرے،ہم اسلام کے کمزور پیمانے پر نہیں اعلی پیمانے پر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ جسٹس کھوسہ صاحب میں عدالت کے اندر اس ریفرنس کو آگ لگا دوں گا۔کھوسہ صاحب آپ کی سرزمین بھی کوئی اچھی تاریخ نہیں رکھتی،کھوسہ صاحب ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن آپ کے سسر عدالتی قتل کا اعتراف کر چکے ہیں،ہم جس آصف کھوسہ کو جانتے ہیں اس نے عدلیہ کے لیے قربانی دی ہیں،امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اس ریفرنس کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں عدالت میں خون دینے والے مجنوں وکلاء کی ضرورت ہے،ہم بڑی بڑی فیسیں نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی کی فون کال کا انتظار نہیں کریں گے،جنہوں نے فون کال سنیں وہ قوم کے مجرم ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو سٹیج پر بیٹھ کر باتیں کرتے تھے وہ آج شرمندہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…