جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم یا معاملہ کچھ اور ؟ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ آنے کے اڑھائی ماہ بعدنئے تنازع نے جنم لے لیا

datetime 23  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مہم یا معاملہ کچھ اور ؟فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ آئےاڑھائی ماہ گزر گئے لیکن تنازع برقرار ہے ،سندھ اور پنجاب کے وکلا بھی آمنے سامنے آگئے ،تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔

ان پر قانون کے اصولوں کو نظر انداز کرنے اور افواج پاکستان اور ریاستی اداروں کی تضحیک کے الزامات عائد کئے گئےہیں۔ جبکہ دوسری جانب سندھ کی مختلف بار ایسوسی ایشنز نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں قرار داد منظور کر لی۔ سندھ بارکونسل، ہائیکورٹ بار، کراچی اور ملیر بار نے پنجاب بار کی قرار داد کی مذمت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں قرار داد منظورکی۔مشترکہ قرار داد کے متن کے مطابق اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں عدلیہ کو دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ پنجاب بار کٹھ پتلیوں کی بھی کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی ہے۔ سندھ کی تمام وکلا برادری کراچی بار کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑی ہے۔کراچی بار نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ انتہائی اچھی ساکھ کے مالک جج ہیں اور انہیں کوئٹہ کمیشن کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔واضح رہے کہ بعد میں پنجاب بار کی جانب سے ایک وضاحتی بیان سامنے آیا ہے  جس میں کہا گیا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کا پنجاب بار سے کوئی تعلق نہیں ،ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کی ذیلی کمیٹی ہے ،جو قرارداد پیش کی گئی ہے وہ اس کا اپنا نقطہ نظر ہو سکتا ہے ،پنجاب بار نے ایسی کوئی قرارداد پیش نہیں کی ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کیخلاف دو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…