منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

ایک اور پاکستانی کی بھارتی جیل میں شہادت،میت پاکستان پہنچی تو اسکی کیا حالت تھی؟جس نے دیکھاآنکھوں سے آنسونکل آئے

datetime 7  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(اے این این ) بھارتی جیل میں چند روز قبل تشدد کا شکار بن کر موت کے منہ میں پہنچنے والے ایک اور پاکستانی کی میت کو وطن واپس لا کر سپرد خاک کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق نورالامین جو پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر تھے 2 سال قبل مچھلیاں پکڑتے ہوئے غلطی سے بھارت کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے۔

اس حوالے سے ان کی بیٹی سکینہ نے بتایا کہ ان کے ضعیف والد کی میت سے آنکھیں نکالی گئیں سر کھلا ہوا تھا جس میں سے دماغ غائب تھا جبکہ ان کے جسم میں گردے بھی نہیں رہنے دیے گئے، لیکن ہم بس جسم کے اس ڈھانچے کو اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارا باپ تھا۔نورالامین کی نمازِ جنازہ میں ان کی میت واپس لانے میں مدد کرنے والے معروف سماجی کارکن انصار برنی بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ بھارتی جیل میں ان کے ساتھ جو بھی ہوا وہ صرف پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہوا۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگوں کو اپنا غصہ غریب اور ضعیف پاکستانی ماہی گیروں پر نکالنے کے بجائے امن اور برداشت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہاں بھی بہت سے لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن میں ان پر زور دوں گا کہ وہ بھی امن پسند ہو کر سوچیں۔ان کی بیٹیوں کا کہنا تھا کہ وہ تمام شادی شدہ ہیں لیکن ان کے بھائی نہیں، اس لیے بھی ان کے والد ماہی گیری کرتے تھے اور اسی کام کے لیے وہ 30 ستمبر 2017 کو بھی گئے۔ان کی دوسری بیٹی کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہوا تھا کہ ہمارے والد کو انڈین کوسٹ گارڈ نے سمندر میں پکڑا، اس سے قبل 2013 میں انہیں غلطی سے سرحد پار کرنے پر بھارتی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا لیکن جیل میں 6 ماہ گزارنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ہمیشہ یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ ایسا دوبارہ نہ ہوجائے، دوسری مرتبہ جب انہیں پکڑنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ کسی کا فون حاصل کر کے گھر پہ کال کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔اس وقت انہوں نے اپنی اہلیہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں زندگی عذاب بن چکی ہے اس لیے حکومت سے ان کی واپسی میں مدد کی درخواست کی جائے’۔مقتول کے اہلِ خانہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی آمدنی انتہائی کم ہے اور وہ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں ان 2 سالوں کے دوران وہ بہت تنگی اور افلاس کا شکار رہے اور صرف پاکستان فشرفوک فورم کے لوگوں نے ان کی مدد کی جو راشن وغیرہ فراہم کردیتے تھے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…