ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ایک اور پاکستانی کی بھارتی جیل میں شہادت،میت پاکستان پہنچی تو اسکی کیا حالت تھی؟جس نے دیکھاآنکھوں سے آنسونکل آئے

datetime 7  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(اے این این ) بھارتی جیل میں چند روز قبل تشدد کا شکار بن کر موت کے منہ میں پہنچنے والے ایک اور پاکستانی کی میت کو وطن واپس لا کر سپرد خاک کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق نورالامین جو پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر تھے 2 سال قبل مچھلیاں پکڑتے ہوئے غلطی سے بھارت کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے۔

اس حوالے سے ان کی بیٹی سکینہ نے بتایا کہ ان کے ضعیف والد کی میت سے آنکھیں نکالی گئیں سر کھلا ہوا تھا جس میں سے دماغ غائب تھا جبکہ ان کے جسم میں گردے بھی نہیں رہنے دیے گئے، لیکن ہم بس جسم کے اس ڈھانچے کو اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارا باپ تھا۔نورالامین کی نمازِ جنازہ میں ان کی میت واپس لانے میں مدد کرنے والے معروف سماجی کارکن انصار برنی بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ بھارتی جیل میں ان کے ساتھ جو بھی ہوا وہ صرف پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہوا۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگوں کو اپنا غصہ غریب اور ضعیف پاکستانی ماہی گیروں پر نکالنے کے بجائے امن اور برداشت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہاں بھی بہت سے لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے لیکن میں ان پر زور دوں گا کہ وہ بھی امن پسند ہو کر سوچیں۔ان کی بیٹیوں کا کہنا تھا کہ وہ تمام شادی شدہ ہیں لیکن ان کے بھائی نہیں، اس لیے بھی ان کے والد ماہی گیری کرتے تھے اور اسی کام کے لیے وہ 30 ستمبر 2017 کو بھی گئے۔ان کی دوسری بیٹی کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہوا تھا کہ ہمارے والد کو انڈین کوسٹ گارڈ نے سمندر میں پکڑا، اس سے قبل 2013 میں انہیں غلطی سے سرحد پار کرنے پر بھارتی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا لیکن جیل میں 6 ماہ گزارنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ہمیشہ یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ ایسا دوبارہ نہ ہوجائے، دوسری مرتبہ جب انہیں پکڑنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ کسی کا فون حاصل کر کے گھر پہ کال کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔اس وقت انہوں نے اپنی اہلیہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں زندگی عذاب بن چکی ہے اس لیے حکومت سے ان کی واپسی میں مدد کی درخواست کی جائے’۔مقتول کے اہلِ خانہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی آمدنی انتہائی کم ہے اور وہ کرایے کے مکان میں رہتے ہیں ان 2 سالوں کے دوران وہ بہت تنگی اور افلاس کا شکار رہے اور صرف پاکستان فشرفوک فورم کے لوگوں نے ان کی مدد کی جو راشن وغیرہ فراہم کردیتے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…