جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

نیب قوانین میں تبدیلی ملک کی تینوں بڑی جماعتیں بڑی آسانی سے یہ کر سکتی ہیں لیکن یہ کرنا کیوں نہیں چاہتیں ؟بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد (منیر) نے خودکشی کیوں کی؟این آر او کی آوازیں دب گئی تھیں ۔۔لیکن یہ ایک بار پھر(اٹھ) رہی ہیں‘ کیوں؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 18  مارچ‬‮  2019 |

پی ایس ایل بہر حال زبردست کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی‘ کراچی میں آٹھ میچ ہوئے‘ انٹرنیشنل کھلاڑی آئے اور ان میں انڈین سٹاف اور مہمان بھی شامل تھے‘ سٹیڈیم بھی بھر گئے اور لوگوں نے کھل کر انجوائے بھی کیا‘ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے ہم اگر کچھ کرنا چاہیں تو ہم بڑی آسانی سے کر لیتے ہیں‘ ہم مشکل ترین حالات میں بھی پی ایس ایل کرا سکتے ہیں‘

اب سوال یہ ہے وہ قوم جو اتنا بڑا ایونٹ کرا سکتی ہے کیا وہ نیب کے قوانین میں ایسی تبدیلیاں نہیں کر سکتی جن کے ذریعے احتساب کے عمل کو شفاف بھی بنایا جا سکے اور اکراس دی بورڈ بھی‘ میرا خیال ہے ملک کی تینوں بڑی جماعتیں بڑی آسانی سے یہ کر سکتی ہیں لیکن یہ کرنا نہیں چاہتیں کیونکہ تینوں پارٹیوں کے سربراہ سمجھتے ہیں ہم نے جتنا مزہ چکھنا تھا چکھ لیا اب دوسروں کی باری ہے‘ اردو میں اس صورت حال کو کہتے ہیں ‘ میرا کچھ نہیں رہا اب تیرا بھی کچھ نہیں رہے گا‘ اس تیرے میرے سے کسی کا کچھ نہیں بگڑ رہا لیکن ملک کا بہت نقصان ہو رہا ہے‘ بیورو کریسی اور کاروباری طبقے نے کام کرنا تقریباً چھوڑ دیا ہے‘ رہی سہی کسر ایک خودکشی نے پوری کر دی‘ تین دن قبل سی ڈی اے کے سابق افسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر نے نیب کی انکوائری سے تنگ آ کر خود کشی کر لی‘ یہ انٹیلی جینس میں بھی رہے اور یہ نیب میں بھی کام کرتے رہے ‘ جب ان جیسے بااثر شخص کے ساتھ یہ ہوا تو آپ باقی لوگوں کی صورتحال کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں‘ نیب کے قوانین اور سسٹم میں اگر کوئی خرابی ہے تو ساری جماعتیں مل کر یہ خرابی دور کیوں نہیں کر لیتیں‘ یہ لوگ مزید کتنی لاشوں کا انتظار کر رہے ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ سیاسی محاذ ایک بار پھر گرم ہو رہا ہے، این آر او کی آوازیں دب گئی تھیں لیکن یہ ایک بار پھر اٹھ رہی ہیں‘ کیوں؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دنوں کی گنتی شروع ہو گئی‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…