’’نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کا واقعہ ‘‘ ہلاکتوں کی تعداد میں افسوسناک حد تک اضافہ ،

  جمعہ‬‮ 15 مارچ‬‮ 2019  |  15:17
کرائسٹ چرچ/لندن /ڈھاکہ/نئی دہلی (این این آئی)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 49افرادجاں بحق اور48سے زائد زخمی ہوگئے ،تین منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلاجہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی، حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھاجو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا، ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا جسے آج(ہفتہ کو )عدالت میں پیش کیا جائے گا،فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقہ اپنے گھیرے میں لے لیا اور مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔جبکہ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے کہاہے کہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں، اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں تاہم آج (ہفتہ کو)ہونیوالا ٹیسٹ میچ ملتویٰ کردیا گیا ہے بعدازاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیتے ہوئے کہاہے کہ مسجد میںفائرنگ دہشت گردی ہے۔ادھرنیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا ہے کہ کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو نیوزی لینڈ کی پولیس نے ایک بیان میں بتایاکہ فائرنگ کے واقعات کرائسٹ چرچ میں واقع مسجدِ نور اور مسجد لنٹن میں پیش آئے، جس میں مسلح افراد نے مساجد میں داخل ہو کر خودکار ہتھیاروں سے نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔انہوں نے کہاکہ مسجد میں ایک مسلح شخص داخل ہوا جس نے مشین گن سے فائرنگ کی، حملہ آور نے پنڈلیوں میں گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔مقامی میڈیا نے بتایا کہ ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہ آور وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس اور پیٹرول بموں سے بھری گاڑی کیساتھ پہنچا تھا،جو ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کرتارہا۔مقامی میڈیا نے مزید بتایا کہ مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی، اس نے کئی بار گن کو ری لوڈ کیا اور مختلف کمروں میں جا کر فائرنگ کی۔مقامی میڈیانے یہ بھی کہا کہ تین منٹ تک مسجد میں فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور مرکزی دروازے سے باہر نکلا،جہاں اس نے گاڑیوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی۔نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن سے زائد نمازیوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔پولیس حکام نے تصدیق کی کہ مسجد میں فائرنگ کا مرتکب حملہ آور گرفتار کر لیا گیا ۔نمازیوں کے قتل عام کرنے والا قاتل کی شناخت برنٹن ٹرنٹ کے نام سے ہوئی۔ اس نے قتل عام کی دلخراش واردت پندرہ منٹ تک فیس بک پر نشر کی۔ کرائسٹ چرچ کے کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ ہماری معلومات کے مطابق فائرنگ کے نیتیجے میں ہلاکتیں شاہراہ ڈینز اور شاہراہ لینووڈ پر واقع مساجد میں ہوئیں۔عینی شاہدین نے واقعہ کی کوریج کرنے والے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملہ آور نے فوجی وردی سے ملتا جلتا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خودکار بندوق تھی جس سے وہ مسجد النور میں اندھا دھند نمازیوں پر فائرنگ کرتا رہا۔وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی ا?وازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر 45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد نے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا, فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرف بھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر گری ہوئی ہے۔ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھیں ہیں۔ادھرنیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق کرائسٹ چرچ کی مسجد نور اور مسجد لنٹن میں فائرنگ کے واقعے میں کسی پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو اپنی سائٹ سے ہٹا رہے ہیں۔ایک حملہ آور کی جانب سے فیس بک پر ڈالی جانے والی حملے کی لائیو ویڈیو کو اگرچہ ہٹا دیا گیا ہے، لیکن متعدد مختلف اکاؤنٹس سے دوبارہ اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ حملہ آور ایسے ہتھیار گاڑی سے نکالتا ہے جن پر مختلف عبارتیں لکھی ہیں اور اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کرتا ہے۔حملہ آور نے یقینی بنایا کے کوئی بھی مسجد سے باہر نکلنے نہ پائے۔ اس دوران وہ بھاگنے والے نمازیوں کا پیچھا کرتے ہوئے باہر پارکنگ تک نکل جاتا ہے اور ان پر گولیاں چلا کر دوبارہ مسجد میں آ کر بھاگنے کی کوشش کرنے والے زخمیوں پر دوبارہ گولیاں چلاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہوئی بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم فائرنگ کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئی ہے، جس کے کھلاڑی فائرنگ کے وقت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد آئے ہوئے تھے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے کپتان تمیم اقبال نے کہا کہ بنگلا دیشی کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی اس واقعے میں محفوظ رہے۔بنگلا دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نے اس موقع پر کہا کہ مسجد میں بنگلا دیشی ٹیم بھی موجود تھی جو اس واقعے میں محفوظ رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت رہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا دوبارہ ہو۔واقعے کے حوالے سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کیا اورکہاکہ دونوں ملکوں نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے کھلاڑی محفوظ ہیں۔نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگلے لائحہ عمل کے لیے اتھارٹیز کے ساتھ کام رہے ہیں ،ٹیم کی کورریج کرنے والے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کی کہ ٹیم کے ارکان ہیگلی پارک کے قریب واقع اس مسجد سے بچ کر نکلے جہاں پر حملہ آور موجود تھے،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس کا کہنا تھاکہ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بس کے ذریعے سے مسجد گئے تھے اور اس وقت مسجد کے اندر جانے والے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔انھوں نے بتایا کہ وہ محفوظ ہیں۔ لیکن وہ صدمے میں ہیں۔ ہم نے ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ہوٹل میں ہی رہیں۔حکومتی ڈیٹا کے مطابق نیوزی لینڈ کی آبادی کا صرف 1.1 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہ2013 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق نیوزی لینڈ میں 46000 مسلمان رہائش پذیر تھے، جبکہ 2006 میں یہ تعداد 36000 تھی۔ سات سالوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔بعدازاں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیکینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ مسجد میں فائرنگ دہشت گردی ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے نیوز کانفرنس کے دوران مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، واقعے میں 49 افراد جاںبحق اور 48سے زائد زخمی ہوئے، یہ حملہ منصوبہ بندی سے کیا گیا اور اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ حملے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے، مسجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد واچ لسٹ میں نہیں تھے، زیر حراست افراد کی گاڑی میں بارودی مواد بھی نصب تھا۔جسینڈا آرڈرن نے کہا کہ واقعہ ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہریوں سے درخواست ہے سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، سیکیورٹی ادارے مستعدی سے کام کررہے ہیں، اس واقعے کی تکلیف کو بھولنا ناممکن ہے۔واقعے کے بعد برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنے بیان میں کہاکہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے ہیبت ناک دہشت گردی کے حملے کے بعد میں پورے برطانیہ کی طرف سے نیوزی لینڈ کے عوام سے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اس پر تشدد حملے میں متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔مسلم ممالک نے بھی نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر ہوئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جمعہ کو انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاکہ عبادت کے مقام پر ایسا حملہ ناقابل قبول ہے۔ اسی طرح ملائیشیا، ایران، بنگلہ دیش اور ترکی نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ۔ ترک صدر کے ترجمان نے ان حملوں کو نسل پرستانہ اور فاشسٹ قرار دے دیا ہے۔ بھارت کی مسلم کمیونٹی نے بھی ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔

موضوعات:

loading...