منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت کیلئے نئی پریشانی،آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا شاخسانہ؟عالمی بینک کی جانب سے متوقع 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم بھی روک لی گئی

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) غیر ملکی زرِ مبادلہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سرکاری بینکوں کی جانب سے دوست ممالک سے مختصر مدت کے قرضے لینے کے باعث رواں مالی سال کے لیے عالمی بینک کی جانب سے متوقع 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل ہو گئیں اعلی سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ رواں سال کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے 27 سے زیادہ ترقیاتی منصوبوں کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت عالمی بینک سے فنڈز نہیں مل پارہے۔

ان کے مطابق رواں سال کی ادائیگیوں میں تاخیر کے سبب مالی سال 20۔2019 کے متوقع منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس قسم کی تاخیر سے ناصرف عالمی بینک بلکہ قرض فراہم کرنے والے دیگر اداروں سے بھی ملنے والے فنڈز متاثر ہورہے ہیں اور ان ترقیاتی قرضوں میں زیادہ تر آسان قرضے ہیں جن ی واپسی کا شیڈول دہائیوں پر محیط ہے جبکہ ان میں رعایتی مدت بھی شامل ہے۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ عالمی بینک اور حکومت کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کئی اجلاس ہوئے ہیں تاکہ رواں مالی سال کے لیے 2 ارب 30 کروڑ کے قرض کی ادائیگی میں آنے والی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے 40 منظور شدہ منصوبوں کے لیے متوقع 7 ارب 40 کروڑ ڈالر کے متوقع فنڈز کو یقینی بنایا جاسکے۔واضح رہے کہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے 12 منصوبوں کو پروکیورمنٹ مسائل اور بعض اوقات عالمی بینک اور پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات میں تضاد کے سبب فنڈز نہیں مل پارہے۔دوسری جانب ایک ارب ڈالر مالیت کے 10 منصوبوں کو عالمی بینک سے طے شدہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ حکام نے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور پروجیکٹ کے لیے خاص تکنیکی ماہر تعینات ہی نہیں کیا جبکہ 16 کروڑ ڈالر مالیت کے 5 منصوبوں کو فنڈز کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ بینک اکانٹس کی عدم موجودگی ہے۔خیال رہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو غیر ملکی امداد کی مد میں(جولائی سے دسمبر) کے دوران متوقع رقم میں سے اب تک محض 2 ارب 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے، بظاہر اس کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے مدد حاصل کرنے میں ناکامی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…